کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 88
چیزوں کو ضرر یا ہلاکت کا سبب بنا دیتا ہے۔لوگ ان احادیثِ کثیرہ کو جن سے مطلقاً شوم و نحوست کی نفی ثابت ہوتی ہے،نفی تاثیر بالذات پر محمول کرتے ہیں اور ان لوگوں کے سوا باقی تمام اہلِ علم کا قول احادیثِ کثیرہ کے مطابق ہے،یعنی ان کا یہ قول ہے کہ کسی چیز میں شوم و نحوست نہیں ہے،نہ عورت میں اور نہ گھر میں اور نہ گھوڑے میں اور نہ کسی اور چیز میں۔یہ لوگ بعض احادیث کو ظاہر پر محمول نہیں کرتے،بلکہ ان کی تاویل کرتے ہیں۔جب سب باتیں معلوم کر چکے تو اب سوالات مذکورہ کا جواب لکھا جاتا ہے: شرع شریف سے کسی شے میں نحوست اس معنی سے ثابت نہیں ہے کہ وہ بذاتہ ضرر پہنچانے والی یا ہلاک کرنے والی ہو،نہ کسی مرد میں ثابت ہے اور نہ کسی عورت میں اور نہ کسی اور شے میں،پس کسی عورت میں کوئی خاص علامت،مثلاً پشت پر بال و بھونری دیکھ کر اس کو اس معنی سے منحوس سمجھنا اور ایسی عورت کے ساتھ نکاح کرنے کو باعثِ ہلاکتِ زوج اعتقاد کرنا،جیسا کہ ہنود و کفار اعتقاد کرتے ہیں اور ان کی تقلید سے عوام و جہلا مسلمان بھی اعتقاد کرتے ہیں،بلاشبہہ داخلِ شرک ہے،ہاں امام مالک وغیرہ نے عورت اور گھر اور گھوڑے میں جس معنی سے نحوست و شوم ثابت کیا ہے،اس معنی سے ان تینوں چیزوں میں نحوست سمجھنا داخل شرک نہیں ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔[1] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ سید محمد نذیر حسین مجالسِ میلاد کی شرعی حیثیت: سوال:ما قولکم۔رحمکم اللّٰه۔في مجالس المیلاد الشائعۃ في ھذا الزمان؟ ھل ھي جائزۃ أم لا؟ ولیکن الجواب مفصلا مع ما لہ وما علیہ،بینوا تؤجروا۔ [آج کل جو مجالسِ میلاد قائم ہوتی ہیں،کیا یہ جائز ہیں یا نہیں ؟ جواب مفصل عنایت فرمائیں ] جواب:عقد مجالس المیلاد الشائعۃ في ھذا الزمان بدعۃ،لا مریۃ في کونھا بدعۃ،لأن عقدھا أمر محدث،وکل محدث بدعۃ،فعقدھا بدعۃ،أما الصغریٰ فظاھرۃ،فإن ھذہ المجالس لم تکن تعقد في الزمن النبوي،ولا في زمن من بعدہ من الصحابۃ والتابعین والأئمۃ المجتھدین رضي اللّٰه تعالیٰ عنھم أجمعین،وأیضا ھذہ المجالس المشتملۃ علی أنواع من المفاسد والبلایا والشرور والرزایا،لا یستنبط جوازھا البتۃ لا من کتاب اللّٰه ولا من سنۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ولا من الإجماع ولا من القیاس الصحیح،فھل ھذا إلا من محدثات الأمور۔وأما الکبری فقد قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( إِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ،فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۲۲)