کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 85
کلام میں استفہام انکاری ہے،پس جبکہ خالد انکار کر رہا ہے کہ وہ لوگ خدا کے خالہ زاد بھائی نہیں ہیں اور اس کے لیے قرینہ بھی موجود ہے تو خالد اس کلام کے کہنے پر عاصی نہیں ہوگا۔ 2۔سہواً یا خطاً کلمہ کفر کہنے سے مسلمان کافر نہیں ہوتا ہے،جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے: (( رُفِعَ عَنْ أُمَّتِيْ الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ )) [1] [میری امت کو خطا اور نسیان معاف کر دیا گیا ہے] ’’وفي العالمگیریۃ:الخاطیٔ إذا جریٰ علی لسانہ کلمۃ الکفر خطأ بأن کان یرید أن یتکلم بما لیس بکفر فجری علی لسانہ کلمۃ الکفر خطأ لم یکن ذلک کفراً عند الکل‘‘[2] کذا في فتاویٰ قاضی خاں [فتاویٰ عالمگیری میں ہے:اگر غلطی سے کسی کی زبان پر کفر کا کلمہ جاری ہوجائے،اس طرح کہ وہ کوئی ایسی بات کہنا چاہتا تھا،جو کفر نہیں تھی،لیکن غلطی سے اس کی زبان سے کفر کا کلمہ نکل گیا تو یہ سب کے نزدیک بالاتفاق کفر نہیں ہے۔فتاویٰ قاضی خاں میں بھی اسی طرح ہے] 3۔جب خالد و شخص خاطی مذکور کا عدمِ کفر قرآن و حدیث و فقہ سے ثابت ہوا تو اب جو شخص ان دونوں کو یا ایک کو کافر کہے گا،وہ خود کافر ہے،جیسا کہ صحیح بخاری شریف (۲/ ۸۹۲) میں ہے: ’’عن أبي ذر أنہ سَمِعَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ:(( لاَ یَرْمِيْ رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوْقِ،وَلاَ یَرْمِیْہِ بِالْکُفْرِ إِلَّا رُدَّتْ عَلَیْہِ إِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہُ کَذَلِکَ )) [3] ھکذا حکم الکتاب۔[4] ’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:جو آدمی کسی کو فاسق ہونے کی تہمت لگائے یا اسے کافر کہے تو اگر وہ آدمی فاسق یا کافر نہ ہو تو وہ فسق یا کفر فتویٰ کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔‘‘ [قرآن مجید کا فیصلہ بھی یہی ہے] حررہ:محمد حمید الرحمن سید محمد نذیر حسین هو الموافق اگرچہ خالد نے جس مقصود غرض سے کلمۂ مذکورہ (یعنی کیا وہ لوگ خدا کے خالہ زاد بھائی ہیں ؟) کو استعمال کیا ہے،اس مقصود غرض کے لحاظ سے وہ بے شک عاصی نہیں ہے،مگر اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی شان میں اس کا استعمال کرنا سوئے ادب سے خالی نہیں ہے۔مثال کے طور پر سمجھو کہ اگر خالد مذکور کی شان میں کوئی شخص استفہامِ انکاری کے طریقے پر یوں بولے کہ کیا خالد بدمعاش ہے؟ یا یوں بولے کہ کیا خالد حرام زادہ ہے؟ تو خالد کو یہ کلمہ ضرور [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۴۳) المعجم الکبیر (۱۱/ ۱۳۳) نیز دیکھیں:إرواء الغلیل (۱/ ۱۲۳) [2] فتاویٰ قاضی خان (۳/ ۳۶۲) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۶۹۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۱) [4] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۲۰)