کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 82
گئی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم معوذتین کی ایک ایک آیت ادھر پڑھتے گئے اور اُدھر ایک ایک گرہ کھلتی گئی۔اﷲ تعالیٰ نے آپ کو کلی شفا بخشی۔آج تو جبریل علیہ السلام اگر ہمیں نہیں بتاتے تو لا محالہ جادوگر جو اس کام سے واقفیت رکھتا ہے،اس سے کھلوانا پڑے گا اور یہ ظاہر ہے کہ جادو شرکیہ الفاظ اور شنیعہ افعال کرتے کراتے ہیں اور یہ حرام ہے،لیکن مجبور و لاچاری کی صورت میں جائز ہے۔‘‘ (دیکھو:صحیح بخاری مع فتح الباری،ابن کثیر وغیرہ) اب ہم مفتی صاحب کے اس کلام کی حقیقت ظاہر کر دینا ضروری سمجھتے ہیں،تاکہ کوئی ناواقف اس کو پڑھ کر دھوکے میں نہ پڑے۔ سنو! مفتی صاحب کا یہ لکھنا کہ ’’جس مسحور کا سحر مدفون ہے،اس پر یہ سورتیں پڑھ کر دم کیجیے تو کچھ فائدہ نہیں،جب تک کہ اس دفن کیے ہوئے سحر کو نہ نکالا جائے۔‘‘ یہ سراسر غلط ہے۔کسی آیت یا کسی حدیث سے یہ بات ہرگز ہرگز ثابت نہیں اور نہ یہ بات صحیح بخاری میں ہے اور نہ فتح الباری یا ابن کثیر وغیرہ میں ہے۔یہ فقط مفتی صاحب کا ایک غلط خیال ہے۔ سورت فاتحہ اور آیاتِ قرآنیہ اور ادعیہ ماثورہ،جو سحر سے شفایابی کے متعلق وارد ہیں،وہ مطلق اور عام ہیں۔اس تفریق کے لیے کہ سحر غیر مدفون کے لیے فائدہ بخش ہیں اور سحر مدفون کے لیے فائدہ بخش نہیں،دلیل صحیح صریح کی ضرورت ہے۔ہاں خوب یاد رہے کہ مفتی صاحب اس تفریق کے لیے کوئی آیت یا حدیث ہرگز ہرگز پیش نہیں کر سکتے۔ رہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جادو نکلوانا اور جادو کیے بال کی گرہوں پر آپ کا معوذتین کی آیات کا پڑھنا اور آپ کا شفا پانا،سو اس سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ مسحور کے لیے معوذتین کا فائدہ بخش اور نافع ہونا اس کے جادو کے نکالنے پر ہی موقوف ہے،بلا جادو نکلوائے یہ کچھ فائدہ بخش نہیں۔یہ تو فقط ایک واقعہ کا ذکر ہے،اس سے یہ تفریق ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔علاوہ اس کے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے جادو نکلوانے پر احادیث متفق نہیں۔بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو نکلوایا اور بعض حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو نہیں نکلوایا۔ صحیح بخاری کے ’’باب السحر‘‘ (۲۴/ ۴۴۰) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ لفظ ہے: ’’قُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَفَأَخْرَجْتَہُ؟ قَالَ:لاَ،أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِيَ اللّٰه وَشَفَانِيْ،وَخَشِیْتُ أَنْ أَثُوْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا‘‘[1] یعنی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ نے جادو کو نکلوایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے عافیت و شفا دے دی اور شر کے ابھارنے اور پھیلانے سے مجھے ڈر ہوا۔‘‘ اسی طرح بعض اور روایتوں میں آیا ہے۔ان دونوں مختلف حدیثوں میں اہلِ علم نے یوں تطبیق دی ہے کہ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۴۳۳)