کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 79
پاس نماز ادا کرے گا اور ان کے پاس دعا کرے گا اور ان سے اپنی حاجات طلب کرے گا تو یہ علماے مسلمین میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔عبادت،طلبِ حوائج اور استعانت صرف اور صرف ایک اﷲ کا حق ہے] 3۔امورِ مستفسرہ میں ہر مردے کی ایک حالت ہے۔کسی آیت سے یا کسی حدیث سے جو نقاد فن حدیث کے نزدیک مسند صحیح ہو،تفرقہ ثابت نہیں ہوتا۔[1] واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن (مبارکفوري)،عفا اللّٰه عنہ شرکیہ الفاظ سے دم کرنا حرام ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ مولوی عبدالوہاب ملتانی نے اپنے صحیفہ بابت ماہ رمضان ۴۶ھ کے صفحہ (۲۲) پر یہ فتویٰ دیا ہے: سوال نمبر:۱۹۰۔شرکیہ الفاظ سے سانپ،بچھو،کتے وغیرہ کے کاٹے ہوئے پر دم کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:بہتر تو نہیں،ہاں اگر کسی مسلمان کی خیر خواہی کے لیے بوقتِ مجبوری و ضرورت کر بھی دے تو کوئی مضائقہ نہیں۔لقولہ علیہ السلام:(( مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَّنْفَعَ أَخَاہُ فَلْیَفْعَلْ )) [2] [تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے]جیسا کہ کسی مسلمان مسحور پر سے اس کا جادو اتار دینا جائز ہے،کذا في البخاري،ورنہ دیگر ادعیہ ماثورہ بہت ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورت فاتحہ ہر بیماری کی شفا ہے،چنانچہ صحابہ کرام نے سانپ،بچھو کے کاٹے ہوئے پر سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے۔‘‘ اب سوال یہ ہے: 1۔مولوی عبدالوہاب صاحب کا یہ فتویٰ صحیح ہے یا غلط؟ 2۔کیا شرکیہ الفاظ سے دم،جھاڑ،پھونک اور عمل کرنا جائز ہے؟ 3۔اگر نہیں تو شرعاً ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ 4۔شرکیہ الفاظ سے دم کرانے والا اور اس کے جواز کا فتویٰ دینے والا شخص اہلِ توحید میں سے ہو سکتا ہے؟ جواب:یہ فتویٰ سراسر غلط و باطل ہے،کیونکہ سانپ بچھو وغیرہ کے کاٹے ہوئے پر شرکیہ الفاظ سے دم کرنا صریح اور کھلا ہوا شرک ہے،اسی طرح کسی مسحور مسلمان پر سے شرکیہ الفاظ یا شرکیہ افعال سے اس کا جادو اتارنا بھی صریح اور کھلا ہوا شرک و کفر ہے۔اس کے جواز کا فتویٰ دینا صریح شرک و کفر کے جواز کا فتویٰ دینا ہے اور خود مشرک بننا اور عوام الناس اور ناواقف مسلمانوں کو مشرک بنانا ہے۔نعوذ باللّٰه من ذلک۔ایسے شرکیہ فتوے دینے والے [1] ’’آثار السنن لإصلاح أبناء الزمن‘‘ (بابت ۱۳۱۷ھ نمبر ۳،۴،جلد:۱) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۹۹)