کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 78
حدیث میں جو آیا ہے کہ مردوں کی زیارت کے واسطے (( السلام[1] علیکم یا أہل القبور )) [2] کرے،سو اس سے مردوں کا سننا ثابت نہیں ہوتا،اس حدیث سے صرف اتنا ہی ثابت ہوتا ہے کہ زیارت کرنے والے کو (( السلام علیکم یا أہل القبور! یغفر اللّٰه لنا ولکم،أنتم سلفنا ونحن بالأثر )) پڑھ لینا سنت ہے اور خطاب سے یہ لازم نہیں آتا کہ مخاطب سنتا بھی ہو۔بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے حجرِ اسود سے مخاطب ہو کر کہا: ’’إِنِّيْ لَأَعْلَمُ أَنَّکَ لَحَجَرٌ لاَ تَنْفَعُ وَلاَ تَضُرُّ‘‘[3] یعنی اے حجرِ اسود! میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے تو نہ نفع دیتا ہے اور نہ ضرر۔دیکھو! حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے پتھر سے خطاب کیا،حالانکہ اس میں سننے کی قوت نہیں ہے۔[4] جب ثابت ہوا کہ مردے سنتے نہیں تو اب اس بات کی دلیل لکھی جاتی ہے کہ مردے کسی کے لیے نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَۃٍ:إِلاَّ مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ،أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ،أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہُ )) [5] (رواہ مسلم) یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے سب عمل منقطع اور موقوف ہوجاتے ہیں،مگر تین قسم کے عمل باقی رہ جاتے ہیں:ایک صدقہ جاریہ،دوسرا ایسا علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچے،تیسرا اچھی اولاد جو اس کے واسطے دعاے خیر کرے۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو بجز ان تین عملوں اس کے تمام اعمال منقطع اور موقوف ہوجاتے ہیں۔کسی عمل کی طاقت باقی نہیں رہتی نہ کسی کو وہ نفع پہنچا سکتا اور نہ کچھ مدد کر سکتا ہے،پس مردوں سے کوئی حاجت چاہنا اور مدد مانگنا لغو اور بے فائدہ ہے،بلکہ ناجائز ہے۔ قال في مجمع البحار:’’من قصد لزیارۃ قبور الأنبیاء والصلحاء أن یصلي عند قبورھم،ویدعو عندھا،ویسألھم الحوائج،فھذا لا یجوز عند أحد من علماء المسلمین،فإن العبادۃ وطلب الحوائج والاستعانۃ حق للّٰه وحدہ‘‘ [مجمع البحار میں ہے:جس شخص نے انبیا و صلحا کی قبروں کی زیارت کا قصد کیا کہ وہ ان کی قبروں کے [1] ’’گفتہ اند کہ ’’السلام‘‘ ایں جا بمعنی استلام یعنی تسلیم و رضا‘‘ (أشعۃ اللمعات:۱۰/ ۷۲۵) [عبد السمیع مبارک پوری] [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۰۵۳) اس کی سند میں ’’قابوس بن ابی ظبیان‘‘ ضعیف ہے۔ [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۵۲۰) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۷۰) [4] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلال دیکھتے تو فرماتے:(( آمَنْتُ بِالَّذِيْ خَلَقَکَ )) نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کو خطاب کیا،حالاں کہ وہ بے جان ہے۔حاصل یہ کہ کسی مقصد کے لیے بے جان چیزوں کو مجازاً خطاب کرنا متعارف و مستعمل ہے۔[عبدالسمیع مبارکپوری] [5] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۶۳۱)