کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 77
اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ} یردون فیجازیھم بأعمالھم‘‘[1] انتھیٰ [’’اور مردے‘‘ یعنی کفار،ان (کافروں)کو مردوں کے ساتھ عدمِ سماع میں مشابہت دی گئی ہے۔’’ان کو اٹھائے گا‘‘ آخرت میں ’’پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ وہ لوٹائے جائیں گے،پھر ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔انتھیٰ] تفسیر بیضاوی میں ہے: ’’{اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ} أي إنما یجیب الذین یسمعون بفھم وتأویل،کقولہ:{اَوْ اَلْقٰی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْد} وھؤلاء کالموتیٰ الذین لا یسمعون {وَالْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ} فیعلمھم حین لا ینفعھم،{ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ} للجزاء‘‘[2] انتھی [’’قبول تو صرف وہی کرتے ہیں جو سنتے ہیں ‘‘ یعنی صرف وہ لوگ قبول کرتے ہیں جو فہم و تاویل کے ساتھ سنتے ہیں،جیسے اس کا فرمان ہے:{اَوْ اَلْقٰی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْد} ’’یا وہ کان لگائے اس حال میں کہ وہ حاضر ہو‘‘ اور یہ لوگ ان مردوں کی طرح ہیں جو نہیں سنتے ’’اور مردوں کو اﷲ تعالیٰ زندہ کرے گا‘‘ پھر وہ اس وقت ان کو (ان کے اعمال سے) آگاہ کرے گا جو ان کو (کسی چیز کا) فائدہ نہ ہو گا ’’پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ یعنی جزا اور بدلے کے لیے۔انتھیٰ] ان آیاتِ مذکورہ بالا سے ثابت ہوا کہ مردے سنتے نہیں ہیں اور یہی ہے مذہب اکثر علمائے حنفیہ کا۔ قال في فتح القدیر في کتاب الجنائز:’’ھذا عند أکثر مشایخنا،وھو أن المیت لا یسمع عندھم علی ما صرحوا بہ في کتاب الإیمان في باب الیمین بالضرب،لو حلف لا یکلم فلانا،فکلمہ میتا لا یحنث،لأنھا تنعقد علی ما حیث یفھم،والمیت لیس کذلک لعدم استماعہ‘‘[3]انتھیٰ [فتح القدیر کے ’’کتاب الجنائز‘‘ میں اس کے مولف نے کہا ہے:یہ موقف ہمارے اکثر مشائخ کا ہے جیسا کہ انھوں نے کتاب الایمان کے ’’باب الیمین بالضرب‘‘ میں اس کی صراحت کی ہے کہ اگر وہ قسم اٹھا لے کہ وہ فلاں سے کلام نہیں کرے گا تو اگر اس نے اس سے تب کلام کیا جب وہ میت ہو چکا تھا تو وہ حانث نہ ہو گا،اس لیے کہ وہ تو اس پر منعقد ہوتی ہے جو سمجھے،جب کہ میت نہ سننے کی وجہ سے ایسی نہیں ہوتی ہے] [1] تفسیر الجلالین (ص:۱۶۷) [2] تفسیر البیضاوي (ص:۴۰۵) [3] فتح القدیر لابن الھمام الحنفي (۲/ ۱۰۴)