کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 76
ہے،سلام کرتا ہے اور مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے اہلِ قبور! کیا تمھارے پاس کچھ خبر ہے اور کیا تمھارے نزدیک کچھ اثر ہے؟ میں کئی مہینوں سے تمھارے پاس آرہا ہوں۔تم سے میرا صرف یہی سوال ہے کہ میرے لیے دعا کرو۔امام صاحب نے اس شخص سے پوچھا کہ اہلِ قبور نے تجھ کو کچھ جواب دیا؟ اس نے کہا:کچھ نہیں۔امام صاحب نے اس کو بد دعا دیا اور کہا کہ تو ہلاک ہو اور تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں،کیوں ایسے لوگوں سے کلام کرتا ہے جو نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے اور نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ نفع و نقصان پہنچانے کا ان کو اختیار ہے؟ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: { وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ} [الفاطر:۲۲] اور فرمایا اﷲ تعالیٰ نے: { فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ} [الروم:۵۲] [یعنی پس بے شک اے رسول! آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو اور نہیں سنا سکتے بہروں کو پکارنا،جب پھریں پیٹھ دے کر] اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مردے کچھ سنتے نہیں۔امام محی السنۃ نے ’’تفسیر معالم التنزیل‘‘ میں اس آیت کے تحت لکھا ہے: ’’إنھم لفرط إعراضھم عما یدعون إلیہ کالمیت الذي لا سبیل إلی إسماعہ،والأصم الذي لا یسمع‘‘[1] [بلاشبہہ وہ لوگ اس چیز سے شدید اعراض کی وجہ سے،جس کی طرف ان کو بلایا جاتا ہے،اس مردے کی طرح ہیں جس کو سنانے کی کوئی سبیل نہیں ہے اور بہرے کی طرح جو سنتا نہیں ہے] نیز فرمایا اﷲ تعالیٰ نے: {اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ} [الأنعام:۳۶] یعنی سوائے اس کے نہیں کہ قبول کرتے ہیں وہ لوگ جو سنتے ہیں اور مردوں کو جلا دے گا اﷲ،پھر اسی کی طرف پھیرے جائیں گے۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے کافروں کو مردہ کہا ہے۔جیسے مردے کچھ نہیں سنتے،اسی طرح کافر لوگ بھی حق بات نہیں سنتے۔یہ آیت بھی عدمِ سماعتِ موتی پر دلالت کرتی ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے: ’’{وَالْمَوْتٰی} أي الکفار،شبھم بہم في عدم السماع،{یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ} في الآخر {ثُمَّ [1] تفسیر معالم التنزیل (۶/ ۱۷۶)