کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 75
{وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ} [الأنعام:۵۹] وقال في الفتاویٰ البزازیۃ:’’من قال:إن أرواح المشایخ حاضرۃ تعلم،یکفر‘‘ انتھی وذکر فیہ أیضاً:’’إن من تزوج بشھادۃ اللّٰه ورسولہ یکفر،لأنہ ظن أن الرسول یعلم الغیب‘‘[1] انتھیٰ [فتاوی بزازیہ میں اس کے مولف نے کہا ہے:جس نے یہ کہا کہ مشائخ کی روحیں حاضر ہیں اور جانتی ہیں،وہ کافر ہو جائے گا،انتھیٰ۔نیز انھوں نے اس میں یہ ذکر کیا ہے:بلاشبہہ جس نے اﷲ اور اس کے رسول کی گواہی کے ساتھ نکاح کیا وہ کافر ہو گیا،کیوں کہ اس نے یہ گمان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں۔انتھیٰ] 2۔جب کوئی شخص قبر کے پاس ملتجی ہوتا ہے اور کسی دینی یا دنیاوی مطلب کو پورا کرنے کے لیے اہلِ قبر،یعنی مردوں کو پکارتا ہے اور ان سے مدد چاہتا ہے تو مردے اس کی التجا اور پکار کو نہیں سنتے اور کسی طرح اس کی مدد نہیں کر سکتے اور کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے،جیسے پتھر یا کسی درخت سے کسی بات کی التجا کرنا اور مدد مانگنا لغو اور بے سود ہے،اسی طرح کسی مردے سے کسی امر کی التجا کرنا اور مدد مانگنا مہمل اور بے کار ہے۔مردوں کا نفع اور امداد پہنچانا کسی کے لیے دو امر پر موقوف ہے: 1۔ایک یہ کہ جو کچھ ان سے کہا جائے،وہ اس کو سنیں۔ 2۔دوسرے یہ کہ وہ نفع پہنچانے اور مدد کرنے کی طاقت رکھیں۔ مگر مردوں میں دو امر میں سے کوئی نہیں پایا جاتا،یعنی نہ وہ کچھ سننے اور نہ نفع پہنچانے اور مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پہلے اس بات کی دلیل لکھی جاتی ہے کہ مردے کچھ نہیں سنتے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآئُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآئُ وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ} [الفاطر:۲۲] یعنی برابر نہیں زندے اور مردے،بے شک اﷲ سناتا ہے جس کو چاہے اور آپ (اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم !) نہیں سنا سکتے مردوں کو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مردے کچھ نہیں سنتے۔اگر سنتے تو ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سنا سکتے،حالانکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ نہیں سنا سکتے۔مردوں کے نہ سننے پر یہ آیت بہت صاف اور نہایت واضح دلیل ہے۔حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا)نے مردوں کے نہ سننے پر اس آیت سے دلیل پکڑی ہے اور فقہاے حنفیہ بھی اس آیت سے مردوں کا نہ سننا ثابت کرتے ہیں۔امام اعظم ابوحنیفہ( رحمہ اللہ)نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صالحین اور بزرگوں کی قبروں کے پاس جاتا [1] البحر الرائق (۵/ ۱۳۴)