کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 73
ہم لوگ اہلِ تقلید ہیں،پایہ اجتہاد کا نہیں رکھتے،پھر جن فقہا کے ہم مقلد ہیں جب ان کے نصوص سے ثابت ہوا کہ میت کو فہم اور سماع نہیں تو اس میں زیادہ گفتگو اور تفتیش کرنا بے موقع ہے۔واللّٰه أعلم۔انتھیٰ ما في غایۃ الأوطار (۲/۳۸۵) الحاصل میت کے سماع اور شعور کے متعلق زید کا قول کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں ہے،لہٰذا اس کا قول غلط و باطل ہے اور آیاتِ مذکورہ بالا سے اور بعض احادیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں۔ہاں یہ اور بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت سے بعض اوقات مردوں کو سنا دے،جیسا کہ وہ اپنی قدرت سے شجر و حجر وغیرہ کو سنا سکتا ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا مردے سنتے ہیں اور نفع پہنچانے پر قدرت رکھتے ہیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں: 1۔بعد مرنے کے مردے کو حالاتِ دنیا اور زندہ لوگوں کے احوال سے خبر ہوتی ہے کہ نہیں ؟ 2۔جب کوئی صاحبِ قبر مردہ کے پاس ملتجی ہوتا ہے تو وہ لوگ سنتے ہیں اور ان کی امداد کو پہنچتے اور نفع پہنچا سکتے ہیں کہ نہیں ؟ 3۔مردہ کی حالت مضمون نوشتۂ مذکور الصدر میں ایک سی ہے یا جداگانہ؟ جواب بہ ثبوت قرآن مجید اور حدیث معتبر عطا ہو۔بینوا توجروا! جواب:1۔جب آدمی مر جاتا ہے تو دنیا کے حالات اور زندہ لوگوں کے احوال سے اس کو کچھ خبر نہیں ہوتی۔مرنے کے بعد مردہ کچھ نہیں جانتا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ زندہ لوگ کن حالات میں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایماندار آدمی جب مر جاتا ہے تو فرشتے اس کی روح لے کر آسمان پر اس مقام میں لے جاتے ہیں،جہاں ایماندار مردوں کی روحیں رہتی ہیں۔وہ روحیں اس روح کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہیں اور اس روح سے پوچھتی ہیں کہ فلاں شخص کا کیا حال ہے؟ فلاں شخص کا کیا حال ہے؟ یعنی اپنے قرابت مند یا دوست کا نام لے کر اس کا حال دریافت کرتی ہیں کہ وہ کس حالت میں ہے،صحیح ہے یا بیمار؟ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں مشغول ہے یا گناہ اور معصیت میں مبتلا ہے۔وہ روح کہتی ہے کہ وہ شخص جس کا حال دریافت کر رہے ہو،مر گیا ہے،کیا تمھارے پاس نہیں آیا؟ تب وہ روحیں کہتی ہیں کہ وہ شخص دوزخ میں بھیجا گیا۔‘‘[2] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردوں کو زندہ لوگوں کے احوال سے کچھ خبر نہیں رہتی ہے۔اگر خبر ہوتی تو وہ [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۶۶۴) [2] سنن النسائي،رقم الحدیث (۱۸۳۳)