کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 68
مرسلہ:مولوی ابو اسحاق عبداﷲ صاحب صدر مدرس مدرسہ شمسیہ،ویرووال مسجد اہلِ حدیث متصل تھانہ۔ضلع امرتسر جواب:آیت:{اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} اور آیت {وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ} سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں اور اسی کی تائید حدیث (( نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعُرُوْسِ )) [1] [دلہن کی طرح سو جا] سے بھی ہوتی ہے،لیکن بعض احادیثِ صحیحہ سے خاص اوقات و مواقع میں مردوں کا سننا ثابت ہوتا ہے،جیسے حدیثِ انس رضی اللہ عنہ سے،جس میں یہ لفظ واقع ہے: (( إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ )) [2] (رواہ البخاري) [وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے] اور جیسے حدیثِ ابن عمر رضی اللہ عنہما ا سے،جس میں یہ لفظ واقع ہے: (( مَا أَنْتُمْ بِأسْمَعَ مِنْھُمْ )) [3] (رواہ البخاري أیضاً) [تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے] اور جیسے حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ سے،جس میں یہ لفظ واقع ہے: ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یُعَلِّمُھُمْ إِذَا خَرَجُوْا إِلَی الْمَقَابِرِ:اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الدِّیَارِ۔۔۔الخ‘‘[4] [جب وہ قبرستان جانے کا ارادہ کرتے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ دعا سکھایا کرتے تھے:’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو۔۔۔الخ‘‘] پس دونوں آیاتِ مذکورہ بالا اور ان احادیث کے درمیان جمع و توفیق کی صورت یہ ہے کہ مرُدے سنتے نہیں،لیکن جب اﷲ تعالیٰ کسی خاص وقت یا کسی خاص موقع میں ان کو سنانا چاہتا ہے تو وہ سن لیتے ہیں۔ تفسیر فتح البیان مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب (۷/ ۸۵) میں ہے: ’’وظاھر نفي سماع الموتیٰ العموم،فلا یخص منہ إلا ما ورد بدلیل،کما ثبت في الصحیح أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم خاطب القتلیٰ في قلیب بدر،فقیل لہ:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إنما تکلم أجسادا لا أرواح لھا؟ وکذلک ما ورد من أن المیت یسمع خفق نعال المشیعین لہ إذا انصرفوا‘‘ انتھیٰ [مردوں کے سننے کی نفی کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے،اس سے صرف وہی خاص ہوسکتا ہے،جو دلیل کے ساتھ وارد ہوا ہو،جیسا کہ صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے ایک کنویں میں پھینکے گئے [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۰۷۱) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۲۷۳) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۸۷۰) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۳۰۴) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۷۵)