کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 67
الجواب صحیح:کتبہ:محمد بن عبد العزیز القاضی فی بھوپال۔شیخ محمد عفي عنہ۔ جواب:1۔فی الواقع افضل اس امت کے بعد حضرت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ،پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ،اور یہ امر شرعی ہے اور اس پر ایک دلیل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے: إِن النَّبِيَّ صَعِدَ أُحُداً وَ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ،وَ عُثْمَانُ رضی اللّٰه عنہ فَرَجَفَ بِھِمْ،فَقَالَ:(( اُثْبُتْ أُحُدُ! فَإِنَّمَا عَلَیْکَ نَبِيٌّ وَصِدِّیْقٌ وَشَھِیْدَانٌ )) [1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ اُحد پہاڑ پر چڑھے ہوئے تھے تو پہاڑ کانپنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے اُحد! ٹھہر جا،تیرے اوپر نبی اور صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘ وجہ دلالت اس حدیث کی اس امر پر یہ ہے کہ افضل ناس مطلقاً نبی ہوتے ہیں،پھر صدیق،پھر شہید،جیسا کہ آیتِ کریمہ:{فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ} [النساء:۶۹] ’’یہ وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے انعام کیا نبیوں،صدیقوں،شہیدوں اور صالحین میں سے۔‘‘ اس پر دال ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق ہیں اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ ا شہید۔ 2۔ایسا شخص مخالف ہے عقیدہ سلف صالحین و ائمہ محدثین و مجتہدین کے۔ 3۔جنگ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بوجہ طلبِ قصاص قاتلانِ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تھی،مفسدوں نے بیچ میں فساد ڈال دیا تھا۔اس لیے اطلاق باغیہ کا ان پر صحیح نہیں ہے،سلف صالحین کا اس میں یہی عقیدہ ہے۔ نمقہ محمد عبداللّٰه غازی پوری (مدرس چشمہ رحمت) الجواب صحیح وخلافہ قبیح۔العاجز سید محمد نذیر حسین عفي عنہ بقلم خود۔ یہ جواب صحیح ہے۔شریف حسین یہ جواب صحیح ہے۔غلام اکبر خاں المجیب مصیب۔تلطف حسین عفي عنہ اصاب من اجاب۔محمد عبدالرحمن الجواب صحیح۔ابو نصر عبداﷲ فضل حسین مظفر پوری عبد الرحیم۔ ﷲ در المجیب فانہ فیما قال مصیب ابو محمد ابراہیم نعم الجواب وھو الصواب۔محمد ادریس الجواب صحیح۔محمداسماعیل۔ اچھا جواب لکھا ہے۔عبد العزیز مظفر پوری۔اصاب من اجاب واﷲ اعلم بالصواب۔نظیر حسین آروی[2] کیا مردے سنتے ہیں ؟ سوال:کیا مردے سنتے ہیں یا نہیں ؟ اگر سنتے ہیں تو (( نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعُرُوْسِ )) والی حدیث کا کیا مطلب ہے؟ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۴۷۲) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۵۷)