کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 651
دے کر باقی کل بیٹا پائے گا۔2 جو شخص باپ اور بیٹی چھوڑ کر مر جائے تو بیٹی کو نصف دے کر باقی نصف کا وارث باپ ہوگا۔3تقسیم ترکہ میں ذوی الفروض،عصبات پر مقدم ہوں گے۔4عصبات میں ترکہ کی تقسیم الاقرب فالاقرب کے طریقے پر ہوگی۔5جو شخص چچا اور پھوپھا یا بھتیجا اور بھتیجی یا چچا زاد بھائی اور چچا زاد بہن چھوڑ کر مر جائے تو ان صورتوں میں مرد حصہ پائیں گے،عورتیں محروم ہوں گی،دیکھوکتبِ فرائض اور صحیح بخاری۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا فتویٰ: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں،جن کو علمِ فرائض میں تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے زیادہ دخل تھا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خود شہادت بایں لفظ دی ہے: (( أفرضکم زید )) [1] أخرجہ أصحاب السنن وصححہ الترمذي وابن حبان والحاکم۔ ’’تم لوگوں میں زید فرائض زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ یتیم پوتوں کے محجوب ہونے کی بابت آپ کا فتویٰ صحیح بخاری میں بایں لفظ مروی ہے: ’’قال زید:ولد الأبناء بمنزلۃ الآباء إذا لم یکن دونھم ولد ذکر‘‘[2] ’’زید بن ثابت نے فرمایا کہ بیٹوں کی اولاد بجائے صلبی اولاد کے ہے،جب کہ بیٹوں کی اولاد اور میت کے درمیان کوئی بیٹا موجود نہ ہو۔‘‘ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اس فتوے سے صاف ثابت ہوا کہ یتیم پوتوں کا وارث ہونا فقط اسی صورت میں ہے،جب کہ میت کا کوئی بیٹا موجود نہ ہو اور اگر میت کا کوئی بیٹا موجود ہوگا تو یتیم پوتے محجوب ہو جائیں گے۔حضرت زید نے صاف لفظوں میں بھی اس کی تصریح کر دی ہے۔اپنے اسی فتوے کے آخر میں آپ فرماتے ہیں: ’’ولا یرث ولد الابن مع الابن‘‘ ’’بیٹے کی موجودگی میں پوتے وارث نہیں ہوں گے۔‘‘ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اس فتوے کی مخالفت ثابت نہیں۔ اتفاق اہلِ علم: یتیم پوتوں کے محجوب ہونے کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر تمام علماے اہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔متقدمین ہوں یا متاخرین،فقہا ہوں خواہ محدثین اور فقہاے حنفیہ ہوں خواہ شافعیہ،مالکیہ ہوں یا حنبلیہ؛ غرض سبھی اس مسئلے کے قائل ہیں۔ فاضل جیراجپوری کو بھی اس کا اعتراف ہے کہ اہلِ اسلام اس مسئلے کو مانتے چلے آئے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۷۹۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۵۴) [2] صحیح البخاري (۶/ ۲۴۷۷)