کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 647
میں ترکہ زید کا کیونکر تقسیم ہوگا اور کس کو کس قدر ملے گا اور اس لڑکی کا نسب زید سے ثابت ہو گا یا نہیں ؟ جواب:وہ عورت جب زید کے ساتھ مثل بی بی کے برابر اس کے مرنے تک رہی اور اس عورت سے جو لڑکی پیدا ہوئی تو زید نے اس کو اپنی بیٹی کہہ کر اپنی قوم میں اس کی شادی کر دی اور وہ عورت کہتی ہے کہ ہمارا نکاح صحیح زید سے ہوا ہے اور یہ لڑکی اسی کے نطفہ سے ہے،پس اس صورت میں وہ لڑکی اور وہ عورت دونوں زید کے ترکہ سے حصہ پائیں گی اور اس کی لڑکی کا نسب زید سے ثابت ہوگا۔ترکہ زید سولہ سہام پر تقسیم ہو کر ازاں جملہ ایک سہم اس کی بی بی کو اور ایک سہم اس عورت کو اور چودہ سہام اس لڑکی کو پہنچیں گے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:أبو العلی محمد عبد الرحمن،عفي عنہ۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ) [1] یتیم پوتوں کے محجوب ہونے کی تحقیق اور فاضل جیراجپوری کے مضمون کی تنقید فرائض اہل السنۃ والجماعۃ میں یہ مسئلہ مسلّم ہو چکا ہے کہ بیٹے کی موجودگی میں یتیم پوتے محجوب ہیں،یعنی جو بیٹے اپنے باپ کی زندگی میں اپنی اولاد چھوڑ کر مر جاتے ہیں تو ان کی یتیم اولاد دادا کے مرنے پر،بشرطیکہ اس نے کوئی بیٹا چھوڑا ہو،اس کے ترکے میں سے حصہ نہیں پاتی،مثلاً:بروقتِ وفات مورث نے ایک بیٹا اور ایک پوتا یتیم چھوڑا تو اس صورت میں سارے ترکے کا وارث بیٹا ہوگا اور پوتا بیٹے کی موجودگی کے سبب محروم قرار دیا جائے گا۔ ان دنوں رسالہ ’’المعارف‘‘ اعظم گڑھ میں مولوی حافظ اسلم صاحب جیراجپوری کا ایک مضمون شائع ہوا ہے،[2] جس میں بڑے زوروں سے اس مسلمہ مسئلے کی مخالفت کی گئی ہے اور صاف لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ یہ مسئلہ بالکل غلط ہے،پھر اس کے غلط ہونے پر مختلف عقلی وجوہات پیش کیے گئے ہیں۔ اس میں شبہہ نہیں کہ فاضل جیراجپوری نے اس مسئلے کی تغلیط پر قابلیت سے تقریر کی ہے اور ایک بسیط مضمون لکھا ہے۔طرزِ تحریر بھی بہت خوب ہے،مگر افسوس کہ آپ کا یہ مضمون قابلِ تنقید ہے اور بعض وجوہ سے اس کی تنقید کی ضرورت محسوس ہوئی۔بنا بریں آپ کے مضمون کی تنقید کی جاتی ہے اور تین نمبروں میں تنقید ختم ہوگی۔وباللّٰه التوفیق۔ نمبر 1 فاضل جیراجپوری لکھتے ہیں کہ فرائض اہل السنۃ والجماعۃ کا یہ مسئلہ کہ بیٹے کی موجودگی میں یتیم پوتے محجوب ہوتے ہیں،بالکل غلط ہے۔کیوں ؟ اس لیے کہ یتیم پوتوں کو قرآن شریف محجوب نہیں کرتا ہے،حدیث شریف محجوب نہیں کرتی ہے،خود فقہ بھی اصولاً محجوب نہیں کرتی ہے۔یہ مسئلہ اسلامی شفقت کے خلاف ہے،مغز و منشاے اسلام کے خلاف ہے،انسانی فطرت کے خلاف ہے،اس مسئلے کے مان لینے سے دشمنانِ اسلام کو اسلام کے قانون پر اعتراض [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۷۵۴) [2] دیکھیں:ماہنامہ ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ (جولائی،اگست ۱۹۱۹ء)