کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 646
سید محمد نذیر حسین صاحب ’’غفرلہم‘‘ نے تحریر فرمایا ہے۔ پس واضح ہو کہ مجمل اور مختصر جواب جس کا طرز تحریر قانون فرائض کے پورا پورا مطابق ہو،اس طرح پر ہے کہ بعد تقدیم ما تقدم علی الارث ورفع موانع ترکہ منشی نذر محمد خان متوفی ایک سو چالیس سہام پر تقسیم ہو کر ازان جملہ تینتیس سہام ان کی زوجہ کو اور بیالیس سہام ان کے بھائی علی محمد خان کو اور اکیس سہام ان کی بہن مسماۃ مغلانی بیگم کو اور اسی قدر مسماۃ گمانی بیگم کو اور چھے چھے سہام بادشاہ بیگم کے ہر ایک بیٹے نیاز علی،ممتاز علی اور امتیاز علی کو اور تین سہام اس کی بیٹی اولیا بیگم کو ملیں گے۔کنیز گان بے نکاحی اور ان کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔واللّٰه تعالیٰ أعلم صورۃ المسألۃ ھکذا: مسئلہ ۴ مـــیـــــــت تصحمن ۲۰ تصحمن ۱۴۰ زوجہ اخ علی محمد اخت مغلانی بیگم اخت گمانی بیگم اخت بادشاہ بیگم  35/8/1 42/6 1/5 21/3 21/3 3  مسئلہ ۷ مـــیـــــــت بتائن ما فی الید نیاز علی (ابن) ممتاز علی (ابن) امتیاز علی (ابن) اولیاء بیگم (اخت)  6/2 6/2 6/2 3/1  الاحــــــــــــــــــــــــــــــــــیـــاء المبلغ ۱۴۰ زوجہ نذر محمد علی محمد مغلانی بیگم گمانی بیگم نیاز علی ممتاز علی امتیاز علی اولیاء بیگم  ۳۵ ۴۲ ۲۱ ۲۱ ۶ ۶ ۶ ۳  الحاصل حضرات مجیبین میں سے ہر ایک کا جواب صحیح و حق ہے۔مجیب ثانی کے صرف طرزِ بیان میں ایک بات تھی جس کو ہم نے ظاہر کیا ہے۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] دو بیویاں اور ایک بیٹی: سوال:زید مر گیا،اس نے ایک بی بی چھوڑی اور ایک ایسی عورت جس کو زید نے کسی شہر میں،جہاں بذریعہ تجارت کے رہتا تھا،رکھ لیا تھا اور وہ عورت اپنے شوہر اور وطن سے جدا ہو کر آئی تھی اور زید کے ساتھ ہمیشہ مثل بی بی کے رہتی تھی۔ایک لڑکی اس عورت کی رفاقت میں زید کے پیدا ہوئی اور زید نے اس کی شادی اپنی بیٹی کہہ کر اپنی قوم میں کر دی۔یہ عورت کہتی ہے کہ ہمارا نکاح صحیح زید سے اس کی دکان پر ہوا تھا اور یہ لڑکی اس کے نطفہ کی ہے،لیکن نکاح کا کوئی گواہ نہیں اور نہ معلوم کہ اس عورت کو شوہر اول نے طلاق دی تھی یا نہیں ؟ پس اس صورت [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۳۲)