کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 645
اموال میں سبب ملک ہے ] و ’’الإستیلاء لا غیر ھو طریق الملک في جمیع الأموال والبیع والھبۃ ونحوھما،ینقل الملک الحاصل بالاستیلاء إلیہ فمن شرط البیع الملک حالۃ البیع حتی لم یصح في مباح قبل الاستیلاء لخلو المحل عن الملک فالأسباب ثلاثۃ مثبت للملک،وھو الاستیلاء،و ناقل الملک وھو البیع ونحوہ،وخلافۃ وھو الارث والوصیۃ‘‘[1] کذا في البحر الرائق۔ [استیلا،نہ کہ کچھ اور،تمام اموال بیع اور ہبہ وغیرہما میں ملک کے ثبوت کا ذریعہ ہے،استیلا کے ساتھ حاصل ہونے والی ملک اس کی طرف منتقل ہو جاتی ہے،بیع کے دوران میں بیع کی شرط ملک کا ثبوت ہے،حتی کہ استیلا سے قبل مباح میں یہ صحیح نہیں ہے،کیوں کہ یہ محل،ملک سے خالی ہے،ملک کو ثابت کرنے والے اسباب تین ہیں:استیلا،ناقلِ ملک،یعنی بیع وغیرہ اور خلافت،یعنی ارث و وصیت] پس بموجب روایاتِ فقہیہ معتبرہ کے لونڈی غلام اس دیار کے بیع و شرا سے لونڈی غلام شرعی نہیں ہوسکتے کہ لوازمِ مملوکیت کا ان پر جاری ہو،پھر جب اولاد اس قسم کی لونڈی کے خرید کرنے والے سے ثابت النسب نہ ہوئی تو محرم الارث بے شک و شبہہ ہوں گے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔سید محمد نذیر حسین جواب صحیح ہے اور متروکہ منشی نذر محمد خان کا بحسبِ قاعدہ فرائض کے ایک سو چالیس سہام پر منقسم ہوگا،اس طرح کہ پینتیس سہام ان کی بیوی کو اور بیالیس سہام ان کے بھائی کو اور اکیس اکیس سہام ان کی دونوں بہنوں کو اور ایک بہن جو مر گئی ہے،اس کے اکیس سہام یوں منقسم ہوں گے کہ چھے چھے سہام ان کے ہر بیٹے کو اور تین سہام ان کی بیٹی کو،غرض کہ حقیقت میں بات اصل وہی ہے جو مفتی صاحب نے لکھی اور ان کو بانٹنا چاہے تو بموجب قاعدہ فرائض کے یوں تقسیم ہو گی اور واقع میں کنیز غیر منکوحہ اور اس کی اولاد کو کچھ نہیں پہنچے گا کہ وہ لونڈی شرعی نہیں ہے۔کما حررہ فی الجواب۔فقط محمد قطب الدین فی الحقیقت جس طرح دونوں حضرات نے ارقام فرمایا ہے،بے کم و کاست یوں ہی ہے حسبِ قواعد فرائض کے بلاشبہہ۔حسبنا اﷲ۔بس! حفیظ اﷲ هو الموافق جو کچھ ان حضرات نے فرمایا وہ صحیح ہے،مگر نواب قطب الدین خان صاحب کی تحریر کی یہ عبارت کہ ’’ایک بہن جو مر گئی ہے اس کے اکیس سہام یوں منقسم ہوں گے۔‘‘ قاعدہ فرائض کے خلاف ہے،اس واسطے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہن متوفیہ کو قبل مرنے کے اس کے بھائی منشی نذر محمد خان متوفی کے ترکہ سے اکیس سہام ملے ہیں،حالانکہ ایسا نہیں ہے،بلکہ قانونِ فرائض کی رو سے اس کو تین سہام ملے ہیں،جیسا کہ حضرت مولانا [1] البحر الرائق (۵/ ۲۷۸)