کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 644
بیوی،ایک حقیقی بھائی اور تین حقیقی بہنیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عرصہ تخمیناً تین برس کا ہوا کہ منشی نذر محمد خان نے مسماۃ رحیم النساء زن منکوحہ اور مسماۃ جمیعت کنیزک بے نکاحی کہ جس کے پیٹ سے ایک بیٹا نور محمد ہے اور ایک گیندا کنیزک بے نکاحی کہ جس کے بطن سے ایک دختر مسماۃ امانی بیگم ہے اور ایک بھائی حقیقی مسمی علی محمد خان اور تین بہنیں حقیقی مسماتان مغلانی بیگم و گمانی بیگم و بادشاہ بیگم و جائداد منقولہ و غیر منقولہ چھوڑ کر اس جہان سے انتقال کیا۔تخمیناً عرصہ ایک برس کا ہوا کہ ایک ہمشیرہ منشی موصوف مسماۃ بادشاہ بیگم بھی تین پسر نیاز علی و ممتاز علی و امتیاز علی اور ایک دختر اولیاء بیگم نامی چھوڑ کر وفات کر گئی،اس صورت میں جس جس کو ازروئے حدیث و شرع شریف جس طور سے حصہ پہنچتا ہے،ارقام فرمائیں۔ جواب:در صورتِ مرقومہ کل متروکہ شخص متوفی کا بعد تقدیم ما تقدم علی المیراث من التجہیز والتکفین والدیون والوصیۃ بیس سہام پر تقسیم ہوگا۔چوتھائی پانچ سہام زوجہ کو پہنچیں گے اور چھے سہام بھائی کو اور تین تین سہام ہر بہن کو اور بہن متوفیہ کا حصہ اس کی اولاد پر {لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ} [النساء:۱۱] تقسیم ہوگا۔کنیز گان بے نکاحی اور اولاد اس کی محروم ہے شرعاً اور اگر اولاد کنیزک شرعی سے ہوتی تو مستحق میراث کی ہوسکتی تھی۔لونڈی اور غلام عرفی اس دیار کے حکم لونڈی اور غلام شرعی کا ہرگز نہیں رکھتے،اس لیے کہ لونڈی غلام شرع میں اس طرح سے ہوتے ہیں کہ اہلِ اسلام بزور اور غلبہ جہاد کر کے ان کو پکڑ لائیں،اپنے ملک دار السلام میں یا کفار ایک ملک کے اوپر کفار دوسرے ملک کے غلبہ کر کے اولادِ کفار کو پکڑ لائیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں لے جائیں،مالک ہوتے ہیں۔اگر ایسے لونڈی غلام کو بیچیں کسی مسلمان کے ہاتھ یا ہدیہ بھیجیں کسی مسلمان کو تو مسلمان اس قسم کے لونڈی غلام کے مالک ہوجاتا ہے،پس اس طرح کی لونڈی شرعی ہیں،بغیر نکاح کے صحبت کرنی ان سے جائز ہے اور اوپر حرہ کے نکاح کرنا اس طرح کی لونڈیوں سے درست نہیں،استیلا اور غلبہ اس طرح پر کہ اس کے قبضہ سے بالفعل اور آیندہ لے نہیں سکے،سبب ملک کا ہوتا ہے مال مباح پر اور آدمی میں سے کفار حربی مال مباح ہیں،جیسا کہ کتبِ فقہ مانند ہدایہ و بحر الرائق وغیرہ میں مذکور ہے: ’’وإذا غلب الترک علیٰ الروم فسبوھم وأخذوا أموالھم ملکوھا،لأن الاستیلاء قد تحقق في مال مباح،وھو السبب‘‘[1] انتھی ما في الھدایۃ مختصرا۔ [جب ترک رومیوں پر غالب آجائیں اور ان کو گرفتار کر لیں اور ان کے مال لوٹ لیں تو وہ ان کے مالک ہوں گے،کیوں کہ غلبہ مال مباح میں متحقق ہوچکا ہے اور وہی ملکیت کا سبب ہے اور غلبہ جمیع [1] الھدایۃ (۱/ ۳۹۲)