کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 643
بعد از وفات زید دونوں لڑکے جائیداد اور متوفی کو بحصہ مساوی باہم تقسیم کر کے جدا ہوگئے۔حامد کی اولاد نرینہ موجود ہے،مگر محمود لا ولد مرگیا۔محمود کی والدہ نے حامد کی اولاد کی حق تلفی کر کے محمود مرحوم کی جائیداد کو محمود کی بیویوں حسینہ و جمیلہ کے نام بذریعہ وصیت نامہ منتقل کر دی۔بقضائے الٰہی حسینہ کا انتقال ہو گیا۔بعد ازاں محمود کی والدہ نے بحالت جان کندنی محمود کی زوجہ ثانیہ جمیلہ کے نام جائیداد محمود متوفی کو ہبہ کر دیا اور ہبہ نامہ تحریر کر دیا اور صبح کو ملکِ عدم کو روانہ ہوگئی،اس کی وفات کے تھوڑے عرصے کے بعد جمیلہ نے نکاحِ ثانی کر لیا۔ اب امور دریافت طلب یہ ہیں: 1۔ہبہ نامہ والدہ محمود جائز ہے یا نہیں ؟ 2۔بحالتِ نکاحِ ثانی مسماۃ جمیلہ مستحق جائیداد شوہر سابق رہی یا نہیں ؟ 3۔حامد کی اولاد مستحقِ وراثت جدی عم خود اس حالت مذکورہ میں ہے یا نہیں ؟ جواب:1۔ہبہ نامہ والدہ محمود ناجائز ہے،اس واسطے کہ محمود متوفی کے جائیداد کے ہبہ کرنے کا والدہ محمود کو کوئی اختیار نہیں ہے۔محمود متوفی کی جائیداد کے وارث حامد کی اولاد نرینہ ہے اور محمود کی بیویاں اور محمود کی والدہ ہے،پس قبل تقسیم جائیداد محمود متوفی کے کسی وارث کو بذریعہ ہبہ یا بذریعہ وصیت اس کے منتقل کرنے کا اختیار نہیں ہے اور محمود کی والدہ نے جو بذریعہ وصیت نامہ محمود کی بیویوں کے نام محمود کی جائیداد کو منتقل کر دیا ہے،سو اس کا یہ وصیت نامہ بالکل لغو و بے کار و ناجائز ہے۔ 2۔بحالتِ نکاحِ ثانی مسماۃ جمیلہ اپنے شوہر اول کی جائیداد سے اپنے حصہ شرعی پانے کی ضرور مستحق ہے،اس کا حصہ نکاحِ ثانی کرنے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوسکتا۔ 3۔حامد کی اولاد حالتِ مذکورہ میں اپنے چچا محمود متوفی کی جائیداد متروکہ سے میراث پانے کی ضرور مستحق ہے۔محمود متوفی کی کل جائیداد متروکہ کے بعد تقدیم ما تقدم علی الارث و رفع موانع بارہ سہام پر تقسیم ہو کر ازاں جملہ چار سہام اس کی والدہ کو ملیں گے اور تین سہام اس کی دونوں بیویوں حسینہ و جمیلہ کو ملیں گے،ان تین سہام کو یہ دونوں باہم نصفا نصف بانٹ لیں اور پانچ سہام اس کے بھتیجوں کو،یعنی حامد کی اولاد نرینہ کو ملیں گے،پھر حسینہ کے انتقال کے بعد جو اس کے وارث ہوں گے،وہ اس کا ترکہ لیں گے اور محمود کی والدہ کے انتقال کے بعد جو اس کے وارث ہوں گے،وہ اس کا ترکہ لیں گے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۲۱۸)