کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 633
انصار کے مقابلے میں یہی دلیل پیش کی تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا] صحتِ قضا کے لیے انصاری ہونا اور صحتِ اذان کے لیے حبشی ہونا شرط نہیں ہے،اس اشتراط پر کوئی دلیل قائم نہیں ہے،بلکہ عدمِ اشتراط پر دلائل قائم ہیں اور قول نبوی ’’القضاء في الأنصار۔۔۔الخ‘‘[1] اور اسی طرح پر ’’الإیمان یمان۔۔۔الخ‘‘ اپنے ظاہری معنی پر محمول نہیں ہے،بلکہ اس کی تاویل کی گئی ہے،جو اپنے مقام پر مذکور ہے اور جمعاً بین الروایات اس کی تاویل کرنی ضروری ہے۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ امارت کی اہمیت اور اس کی شرائط: سوال:مسلم شریف میں حدیث ہے:’’جو مرا بغیر سردار کے،وہ جہالت کی موت مرا‘‘ اس کا کیا مطلب ہے اور سردار غیر قریش بھی ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ سردار ہونے کے لیے کن کن اوصاف کی ضرورت ہے اور سردار کے ساتھ کیسی عقیدت رکھنا چاہیے؟ جواب:صحیح مسلم میں حدیث اس طرح پر ہے: (( ومن مات ولیس في عنقہ بیعۃ،مات میتۃ جاھلیۃ )) [2] اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص امامِ وقت کے ہوتے ہوئے اس کی بیعت نہ کرے اور بلا بیعت کے مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا،یعنی گمراہی پر مرا۔اس سردار کا قریشی ہونا ضروری ہے،جو امامِ وقت اور امیر المومنین ہو،یعنی تمام مسلمانوں کا انتظام جس کے اختیار میں ہو۔ایسا سردار قریشی کے ہوتے ہوئے غیر قریشی نہیں ہوسکتا۔ایسا سردار،جو امامِ وقت اور امیر المومنین ہو،جب موجود ہو تو اسی کے ہاتھ پر ایک مسلمان کو بیعت کرنا ضروری ہے اور اس کی اطاعت،یعنی اس کا حکم ماننا واجب،بشرطیکہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہو۔اگر اس کا کوئی حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اس کا حکم ماننا جائز نہیں۔ایسے سردار ہونے کے لیے چند اوصاف کی ضرورت ہے،جن کا بیانچ کتبِ عقائد میں مفصل طور پر لکھا گیا ہے۔از انجملہ یہ ہے کہ وہ عاقل بالغ مسلمان قریشی ہو اور دیندار ہو اور احکامِ اسلام کے نافذ اور جاری کرنے کی قابلیت رکھتا ہو،شرک و کفر و بدعت کا مٹانے والا ہو اور دینِ اسلام کو بلند کرنے والا ہو۔ھذا ما عندي،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم کتبہ:محمد عبد الرحمن،عفا اللّٰه عنہ۔ [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۹۳۶) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۵۱)