کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 631
امیر کے لیے قرشی ہونے کی شرط: سوال:بخاری شریف میں ’’باب الأمراء من قریش،إن ھذا الأمر من قریش (إلی أن قال) ما أقاموا الدین‘‘ کیا یہ حدیث شریف مثل ’’الملک في قریش،والقضاء في الأنصار،والأذان في الحبشۃ،والأمانۃ في الأزد۔یعني الیمن۔والإیمان یمان،والکفر في قبل المشرق‘‘ کے بطور افضلیت کے ہے؟ آیا عدمِ وجود قریش النسل و در صورت موجودگی عدم اقامۃ الدین غیر قریشی امام ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ علی ھذا ’’الملک في قریش۔۔۔‘‘ الخ سے کیا غرض ہے؟ غیر حبشی مؤذن ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ غیر یمنی ایماندار ہیں یا نہیں ؟ غیر مشرق میں کفر ہے یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر معنی مع تطبیق ارسال کریں۔ جواب:امامتِ کبریٰ کی صحت کے لیے قریشی ہونا شرط ہے،یعنی قریشی کے ہوتے ہوئے غیر قریشی امام نہیں ہوسکتا ہے۔ہاں اگر کوئی قریشی موجود نہ ہو تو اس صورت میں غیر قریشی امام ہوسکتا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’قال القرطبي:ھذا الحدیث۔یعني حدیث (( لا یزال الأمر في قریش ما بقي منھم اثنان )) خبر عن المشروعیۃ أي لا تنعقد الإمامۃ الکبریٰ إلا القرشي،مھما وجد منھم أحد،وکأنہ جنح إلی أنہ خبر بمعنی الأمر،وقد ورد الأمر بذلک في حدیث جبیر بن مطعم رفعہ:(( قدموا قریشا ولا تقدموھا )) أخرجہ البیہقي،وعند الطبراني من حدیث عبد اللّٰه بن حنطب ومن حدیث عبداللّٰه بن السائب‘‘[1] انتھیٰ [قرطبی نے کہا کہ حدیث (( لا یزال الأمر في قریش ما بقي منھم اثنان )) مشروعیت کی خبر ہے کہ امامت کبریٰ کے لیے قرشی ہونا ضروری ہے،جب تک ان میں سے کوئی شخص موجود ہو،گویا انھوں نے خبر کو امر کے معنی میں لیا ہے۔جبیر بن مطعم سے مرفوعاً مروی حدیث میں بھی یہ امر واقع ہوا ہے:’’قریش کو مقدم کرو،ان پر کسی کو مقدم نہ کرو۔‘‘] پھر حافظ ابن حجر نے کئی روایتیں نقل کی ہیں،پھر لکھتے ہیں: ’’وإلی ھذا ذھب جمھور أھل العلم أن شرط الإمام أن یکون قرشیا‘‘[2] انتھیٰ [جمہور اہلِ علم اسی طرف گئے ہیں کہ امام کی شرط اس کا قرشی ہونا ہے] پھر کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’وأما ما احتج بہ من لم یعین الخلافۃ في قریش من تأمیر عبد اللّٰه بن رواحۃ وزید بن [1] فتح الباري (۱۳/ ۱۱۸) [2] مصدر سابق۔