کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 629
برائے خود رئیس می کردند‘‘ (فتاویٰ عزیزی صفحہ:۷۷ جلد دوم) [یہ حدیث کہ ’’جو شخص مر گیا اور اس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا،وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘ اس کی سند صحیح ہے اور حدیث مرفوع ہے۔یہاں ’’معرفت‘‘ (پہچان) کا معنی ’’اطاعت‘‘ ہے،یعنی جب امام عادل (بادشاہ) موجود ہو اور پھر آدمی اس کی مخالفت کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرا،کیوں کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ ایک بادشاہ کی اطاعت نہیں کیا کرتے تھے،ہر قبیلہ اپنے لیے علاحدہ اپنا امیر مقرر کرتا تھا] شاہ صاحب نے اس حدیث کو صحیح الاسناد بتایا ہے،مگر حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کی نسبت ’’منہاج السنۃ‘‘ (۱/ ۲۷) میں لکھتے ہیں: ’’ھذا الحدیث بھذا اللفظ لا یعرف،إنما المعروف مثل ما رویٰ مسلم في صحیحہ عن نافع قال:جاء عبد اللّٰه بن عمر۔۔۔ثم ذکر حدیث ابن عمر:و من مات،ولیس في عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ‘‘ [یہ حدیث ان الفاظ سے نہیں ملتی،اس کے معروف الفاظ وہی ہیں،جو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں آئے ہیں:جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہیں ہے،وہ جاہلیت کی موت مرا] یہ حدیث بہت صحیح ہے۔امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،یہ حدیث صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ (۲/ ۱۲۸) میں مذکور ہے۔پوری حدیث اس طرح پر ہے: (( من خلع یدا من طاعۃ،لقي اللّٰه یوم القیامۃ لا حجۃ لہ،ومن مات ولیس في عنقہ بیعۃ،مات میتۃ جاھلیۃ )) [1] [جو شخص ایک بالشت بھر بھی اطاعت سے نکلا،قیامت کے دن اس حال میں خدا سے ملے گا کہ اس کے پاس حجت نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو،وہ جاہلیت کی موت مرا] اس حدیث کے جملہ اخیرہ یعنی (( ومن مات ولیس في عنقہ۔۔۔)) کا مطلب و منشا یہ ہے کہ جو شخص امامِ وقت کے ہوتے ہوئے اس کی بیعت نہ کرے اور بلا بیعت کے مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا،یعنی گمراہی پر مرا یا اہلِ جاہلیت کی موت مرا کہ جیسے ان کا کوئی امام مطاع نہیں،اس کا بھی کوئی امام مطاع نہیں۔مجمع البحار میں ہے: ’’وفي ح الفتن:فقد مات میتۃ جاھلیۃ:بالکسر حالۃ الموت أي کما یموت أھل الجاھلیۃ من الضلال والفرقۃ۔ک:من خرج من السلطان مات میتۃ جاھلیۃ أي کموت أھل الجاھلیۃ حیث لم یعرفوا إماما مطاعاً ولا یرید أنہ یموت کافرا بل عاصیہ‘‘ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۵۱)