کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 628
جواب:1 و 2۔اگر سائل کی مراد نفسِ امامت سے وہی امامت ہے جو حدیث (( إنما الإمام جنۃ )) [1] اور حدیث (( خیار أئمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم )) [2] میں لفظِ امام کا ماخذ ہے اور خلافت راشدہ سے وہی خلافت مراد ہے،جو حدیث (( علیکم بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین )) [3] میں لفظِ خلیفہ کا ماخذ ہے تو نفسِ امامت خلافتِ راشدہ کی عین نہیں ہے،بلکہ ان دونوں کے مفہوم کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ راشد مہدی امام ہے اور ہر امام کا خلیفہ راشد مہدی ہونا ضروری نہیں ہے۔ رہا یہ خیال کہ اگر نفسِ امامت خلافتِ راشدہ کی عین نہ ہوگی تو پھر یہ امامت شرعی مسئلہ نہیں رہے گا تو یہ خیال صحیح نہیں ہے۔بلکہ یہ امامت بھی شرعی مسئلہ ہوگا اور جو امام کہ خلافتِ راشدہ اور منہاجِ نبوت کے طرز پر امامت نہیں کرتا ہے،لیکن وہ نماز پڑھتا ہے اور کفر بواح کی حد تک نہیں پہنچا ہے،سو اس کے بھی حقوق اس کے رعایا کے ساتھ متعلق ہیں اور اس کی بھی اطاعت ضروری ہے اور اس کی بیعتِ امامت توڑنا اور اس کی بغاوت کرنا جائز نہیں۔ہذا ما عندي واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ 3 و 4 خلافتِ راشدہ نبوت کی عین نہیں ہے،بلکہ ان دونوں کے درمیان میں نسبت تباین کی ہے،یہی وجہ ہے کہ کوئی خلیفہ راشد نبی نہیں ہوسکتا اور نبی کا خلیفہ راشد ہونا بھی ممکن نہیں،کیونکہ خلیفہ راشد نبی کا جانشین اور نائب ہوتا ہے۔رہی یہ بات کہ خلافتِ راشدہ نبوت کی عین نہیں تو کیا نبوت کا ظلّ ہے؟ سو اس کا جواب اُس وقت دیا جائے گا جبکہ سائل لفظِ ظلّ کی تشریح کرے کہ اس لفظ سے اس کی کیا مراد ہے؟ ہذا ما عندي واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ (۱۵/ ربیع الثاني ۴۲ھ) امامت و بیعت کے متعلق بعض احادیث کی توضیح: سوال:حدیث:(( من لم یعرف إمام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ )) و دیگر (( من مات ولیس في عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ )) ان حدیثوں کا منشا کیا ہے؟ یہ کس درجہ کی ہیں اور کس محدث نے روایت کیا ہے؟ جواب:حدیث:(( من لم یعرف إمام زمانہ۔۔۔)) کی نسبت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں: ’’حدیث (( من مات ولم یعرف إمام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ )) [4] صحیح الاسناد است و مقولہ جناب نبوی است صلی اللہ علیہ وسلم و معنی معرفت وجوب اطاعت است در صورت وجود امام و تحذیر از منازعت و مخالفت چنانکہ از لفظ ’’مات میتۃ جاھلیۃ‘‘ ظاہر است کہ اہل جاہلیت اتباع رئیس واحد نداشتند و ہر فرقہ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۷۹۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۴۱) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۵۵) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۰۷) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۷۶) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۴۲) [4] یہ روایت بے اصل اور شیعی کتب سے ماخوذ ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ (۳۵۰)