کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 627
فتویٰ اول سے آخر تک خوب اچھی طرح دیکھ لیا ہے اور دہلی میں مولوی عبدالجبار سلمہ اﷲ نے بھی آپ کا یہ فتویٰ مجھے دکھایا تھا۔مجھے آپ کے اس فتوے سے اتفاق ہے۔(الراقم:عبدالرحمن مبارک پوری،ڈاکخانہ خاص ضلع اعظم گڑھ) بیعتِ امامت اور ادائے زکات: سوال:یہاں دہلی میں ایک مولوی صاحب ہیں،جو فرماتے ہیں کہ جب تک زکات کا کل مال مجھے نہ دیا جائے تو زکات ادا نہیں ہوتی اور جو میرے ہاتھ پر میری ماتحتی کی بیعت نہ کرے،وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ کیا وہ اپنے ان دعووں میں سچے ہیں یا نہیں ؟ کیا ہم دہلی والے جب تک صرف ان مولوی صاحب ہی کو زکات کا کل مال نہ دیں تو واقعی ہماری زکات ادا نہیں ہو گی اور اگر ان کے ہاتھ پر ان کی ماتحتی کی بیعت نہ کریں تو کیا جاہلیت کی موت مریں گے؟ جواب:میرے نزدیک مولوی صاحب مدعیِ امارت و امامت کے یہ دونوں دعوے ناقابلِ قبول ہیں۔واللّٰه أعلم الراقم:عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ[1] مسئلہ امامت: سوال:مسئلہ ضرورتِ امامت کے آپ اور کُل اہلِ علم قائل ہیں کہ ضرور ہونی چاہیے،لیکن اس کے قیام پر مندرجہ ذیل شکوک پیدا ہوتے ہیں: 1۔نفسِ امامت خلافت (جس کا ہونا ہر آن میں ضروری ہے) آیا خلافتِ راشدہ کی عین ہو گی یا مغایر؟ مغایر تو ہو نہیں سکتی،کیوں کہ پھر یہ امامت شرعی مسئلہ نہیں رہے گا،لا محالہ پہلی شق،’’عین‘‘ زیرِ تحقیق رہے گی اور اس کی بھی دو شقیں ہوں گی: (شق اول) نفسِ امامت خلافتِ راشدہ کی کلیتاً عین ہے یا (شق ثانی) جزواً؟ یا خلافتِ راشدہ کی ظل ہوگی؟ (ب) اور کلی یا جزئی عینیت کس اعتبار و لحاظ سے ہوگی؟ (ج) یا لفظ ’’عین‘‘ کو چھوڑ کر دوسرے لفظ مساوی یا مثل کا (بوقتِ تفہیم) استعمال کیا جائے گا تو اس کی بھی دو شق ہے:آیا یہ کلیتاً ہے یا جزواً؟ 2۔نفسِ امامت اور خلافِ راشدہ میں نسبتِ اربعہ میں سے کوئی نسبت ہے؟ 3۔اور خود خلافتِ راشدہ،’’نبوت‘‘ کی عین ہے یا نبوت کا ظلّ ہے؟ 4۔نیز خلافتِ راشدہ اور نبوت میں نسبتِ اربعہ میں سے کون سی نسبت ہے؟ فقط احمد بن محمد از دہلی دفتر اہلحدیث کانفرنس صدر بازار [1] مسئلہ ادائے زکات اور امامت مولوی عبدالوہاب (ص:۱۱) مطبع مرکنٹائل،دہلی۔