کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 626
ان کا ہاتھ شرط ہو،نیز وہ کہتے ہیں،جو میرے ہاتھ پر بیعت نہ کرے،وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ان کے علاوہ اور بھی کئی دعوے غلط ہیں۔ان کی امامت کو اس امارت سے کوئی تعلق نہیں،جو حکومت غیر اسلامی کے ماتحت ہے اور بعض امور میں ہے،جن سے حکومت تعرض نہیں کرتی۔فقط عبداﷲ امرتسری از روپڑ،ضلع انبالہ فتاویٰ دیگر علماے بابت مسئلہ امارت: درست ہے۔عبد الجلیل (خطیب جامع مسجد منٹگمری) جوابات درست ہیں۔(خاکسار محمد حسین ساکن لکھوکے) ہر چہار سوال مع جواب کو دیکھا،جو کچھ مجیب نے تحریر کیا ہے،وہ بالکل صحیح و صواب ہے۔(ابو اسحاق نیک محمد،مدرس حدیث مدرسہ تقویۃ الاسلام امرتسر) میں نے اس رسالے کو اول سے آخر تک دیکھا،بالکل مطابق حدیث کے پایا۔(محمد یوسف دینا نگری،مدرس دار العلوم امرتسر) جوابات ٹھیک ہیں۔(نور حسین گرجاکھی بقلم خود) صحیح ہے۔(محمد،ساکن گوندلانوالہ ضلع گوجرانوالہ،مولوی فاضل) چاروں سوالوں کے جواب میں نے بغور دیکھے،بالکل صحیح پایا۔حدیث میں ہے: (( لا جماعۃ إلا بإمارۃ )) [1] (الحدیث رواہ الدارمي) یعنی جماعت کا وجود امارت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (( من خرج من الطاعۃ و فارق الجماعۃ ثم مات مات میتۃ جاھلیۃ )) [2] (رواہ مسلم) [یعنی جو شخص امیر کی تابعداری سے نکل جائے اور جماعت سے جدا ہو جائے،پھر مر جائے تو جاہلیت کی موت مرے گا] یہ حدیث امارتِ کبریٰ کے حق میں ہے۔امارتِ صغریٰ کے حق میں نہیں،مگر امارتِ صغریٰ کی مخالفت بھی بہت بُری ہے،کیوں کہ یہ بھی اسی کی ایک شاخ ہے۔(محمد حسین کمیر پور،ضلع امرتسر) جوابات درست ہیں۔(داود غزنوی) بخدمت جناب مولانا حافظ عبداﷲ صاحب۔بارک اللّٰه لکم وعافاکم۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔میں نے یہ [1] مسند الدارمي (۱/۹۱) یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔اس کی سند میں صفلان بن رستم ضعیف ہے۔ [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۴۸)