کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 625
اعیاد و انکاح من لا ولی لہ من الصغار و حفظ مال یتیم و قسمت ترکات متنازع فیہا علی حسب السہام مے نمودہ باشد بے آنکہ در امور ملکی تصرف کند و مداخلت نماید‘‘ (فتاویٰ عزیزیہ،ص:۳۳) یعنی دار الحرب میں اگر کافروں کی طرف سے کوئی مسلمان حاکم مقرر ہو تو اس کی اجازت سے جمعہ جائز ہے،ورنہ مسلمانوں کو چاہیے کہ کسی امین اور دین دار کو اپنا امیر مقرر کریں،تاکہ اس کی اجازت[1] اور اس کے حضور سے جمعہ اور عیدین قائم ہوں اور بے ولی چھوٹے بچوں کے نکاح اور یتیم کے مال کی حفاظت اور وراثت کی تقسیم شرعی طور پر کی جائے،بغیر اس کے کہ ملکی امور میں تصرف و مداخلت کرے۔‘‘ سوال:ہندوستان میں جہاں حکومت کفار کی ہو،اگر امیر ہو سکتا ہے تو اس کے فرائض کیا ہوں گے؟ جواب:دوسرے سوال کے جواب میں اس سوال کا جواب بھی آگیا،کیوں کہ بتلایا گیا ہے کہ امارت قائم کرنے کی سخت تاکید ہے،خواہ حکومتِ کفار ہو یا آزادی ہو،پس جتنے انداز پر امارت قائم ہوسکے،اس میں کوتاہی نہ کرنی چاہیے،مثلاً:مدارس قائم کرنا،مبلغین اور واعظین کا باقاعدہ انتظام رکھنا،جہاں مناظرے کا اتفاق ہو،وہاں مناظر بھیجنا،غیروں کے حملوں کی مدافعت کرنا،نکاح طلاق کے تنازعات مٹانا،وراثت شرعی طور پر تقسیم کرنا،بیواؤں کی خبرگیری رکھنا،بے ولی بچوں کے نکاح کا انتظام اور یتیموں کے مال کی حفاظت،یہ سب امور اس قسم کے ہیں کہ حکومتِ کفار ان سے کوئی تعرض نہیں کرتی،بلکہ آپس کے دیوانی جتنے تنازعات ہیں،وہ آپس ہی میں طے ہو سکتے ہیں،بلکہ بہت سے فوج داری بھی طے ہو سکتے ہیں،جیسے پنچایتی حکومتوں میں ہوتا ہے۔ہاں جو تنازع غیر سے ہو،وہ اپنے بَس کی بات نہیں۔اگر ان سب امور کے متعلق دفعتاً انتظام نہ ہو سکے تو جتنے امور میں سردست امارت قائم ہوسکے،وہ سہی۔ما لا یدرک کلہ لا یترک کلہ،کما مر۔ سوال:مولوی عبدالوہاب ملتانی ثم الدہلوی کی امامت میں اور اس امارت میں کیا فرق ہے؟ جواب:مولوی عبدالوہاب صاحب کا دعویٰ مستقل امامت کا ہے،جیسے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت تھی۔نیز ان کا دعویٰ ہے کہ زکات وغیرہ میرے ہاتھ پر دیے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ان دونوں دعوؤں پر میرے سامنے ان کا مناظرہ ہو چکا ہے اور یہ دونوں دعوے غلط ہیں،کیوں کہ ہندوستان میں ایسی امامت ہو ہی نہیں سکتی۔نہ وہ اس کے اہل ہیں،کیوں کہ مستقل امامت کے شروط ان میں نہیں ہیں۔پھر چہ جائیکہ زکات کی قبولیت کے لیے [1] جمعہ اور عیدین کے لیے امیر تو شرط نہیں،ہاں ہونا ہر صورت میں اچھا ہے۔اگر بالفرض لوگ کسی امیر کو مقرر کرنے میں کوتاہی کریں تو امام نماز ہی کافی ہے۔نیز حدیث میں ہے:(( إذا سافرتم فلیؤمکم أقرأکم وإن کان أصغرکم،إذا أمکم فھو أمیرکم )) البزار عن أبي ھریرۃ (۲/۴۴۵) اس کی سند ضعیف ہے،دیکھیں:مجمع الزوائد (۵/۴۶۵) السلسلۃ الضعیفۃ (۲۶۲۳) (منتخب کنز العمال:۳/ ۳۷) یعنی جب تم سفر کرو تو زیادہ پڑھا ہوا تمھاری امامت کرائے،خواہ چھوٹا ہی ہو اور جب امامت کرائے تو وہ تمھارا امیر ہے۔