کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 624
’’فکان ھؤلاء العشرۃ أول من خرج من المسلمین إلی أرض الحبشۃ فیما بلغني (قال ابن ھشام) فکان علیھم عثمان بن مظعون فیما ذکر لي بعض أھل العلم‘‘ (تاریخ ابن ھشام:۱/۱۷۳) یعنی یہ دس آدمی[1] مسلمانوں کے پہلے مہاجر ہیں،جنھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے امیر عثمان بن مظعون تھے۔‘‘ اس واقعے سے معلوم ہوا کہ حکومتِ کفار میں امیر بن سکتا ہے،کیوں کہ حبشہ کا بادشاہ اس وقت عیسائی تھا،ان دس آدمیوں کے بعد پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور دیگر بہت سے مسلمانوں نے ہجرت کی۔یہاں تک کہ پہلے پچھلے کل ملا کر ۸۲[2] یا ۸۳ ہوگئے۔جب کفارِ قریش نے دیکھا کہ مسلمان ملک حبشہ میں آرام سے رہنے سہنے لگ گئے تو ان کی دشمنی تیز ہوگئی۔عبداﷲ بن ربیعہ اور عمرو بن العاص کو بہت سے تحفے تحائف دے کر نجاشی کے پاس بھیجا کہ تحفے تحائف سے نجاشی کو خوش کر کے مسلمانوں سے بدظن کریں کہ یہ لوگ مفسد اور فتنہ انگیز ہیں۔ملک میں کوئی نہ کوئی خرابی کریں گے،ان کو ہمارے سپرد کر دو،کیوں کہ ہم ان کے حال سے زیادہ واقف ہیں۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ نجاشی ان کے سپرد کر دے تو ان کو تنگ کریں،تاکہ اسلام سے پھر جائیں یا قتل کر دیں،مگر نجاشی نے ان کو جواب دے دیا اور تحفے تحائف رد کر دیے۔نجاشی کے بڑے بڑے امیروں وزیروں کی سفارش بھی ڈالی،مگر نجاشی نے کچھ پروا نہ کی۔پھر انھوں نے نجاشی کے پاس چغلی کی کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں بہت بڑا کلمہ کہتے ہیں کہ وہ اﷲ کا بندہ ہے۔نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کیا اور پوچھا تو جعفر رضی اللہ عنہ نے سورت مریم کا شروع سنایا۔نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر پھینکا اور کہا:جو کچھ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہے،یہ لوگ اس پر ایک تنکے برابر بھی زیادہ نہیں کرتے اور کہا کہ تم میرے ملک میں امن و امان سے رہو۔ زاد المعاد میں یہ قصہ ذکر کیا ہے اور اس کے ضمن میں کہا ہے کہ ’’ومقدمھم جعفر بن أبي طالب‘‘ (زاد المعاد:۱/۳۰۱) یعنی ان کے امیر[3] جعفر بن ابی طالب تھے۔‘‘ اس سے بھی معلوم ہوا کہ حکومتِ کفار میں بھی امارت قائم ہوسکتی ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب فتاویٰ عزیزیہ میں لکھتے ہیں: ’’واقامت جمعہ در دار الحرب اگر از طرف کفار والی مسلمان در مکانے منصوب باشد باذن او جائز است و الا مسلماناں را باید کہ یک کس راکہ امین و متدین باشد رئیس قرار دہند کہ باجازت حضور او اقامت جمعہ و [1] زاد المعاد میں ۱۲ مرد اور ۴ عورتیں لکھی ہیں اور تاریخ ابن جریر میں گیارہ مرد اور چار عورتیں لکھی ہیں۔ایک روایت میں دس کا بھی ذکر ہے۔ [2] تاریخ ابن جریر میں ۸۱ اور ۸۲ میں شک کیا ہے۔(مولف) [3] چونکہ عثمان بن مظعون رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے سے پہلے مکے ہی میں واپس آگئے تھے،جیسے ’’الإصابۃ في معرفۃ الصحابۃ‘‘ میں ہے۔اس لیے جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوگئے۔