کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 623
’’عن عبداللّٰه بن عمرو أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:لا یحل لثلاثۃ یکونون بفلاۃ من الأرض إلا أمروا علیھم أحدھم‘‘ رواہ أحمد۔[1] منتقیٰ ص:۳۳۰،باب وجوب ولایۃ القضاء والإمارۃ وغیرھا یعنی عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ تین شخص جنگل میں ہوں تو ان کو بھی رہنا حلال نہیں،مگر اس حال میں کہ ایک اپنے کو اپنے اوپر امیر بنائیں۔اس کو احمد نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے اور اس جیسی اور حدیثوں سے جو اوپر گزر چکی ہیں،ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے مسلمانوں پر ایک امیر ہونا ضروری ہے،خواہ وہ حکومتِ کفار میں ہوں یا آزاد ہوں،کیوں کہ فرمایا ہے:ان کو رہنا حلال نہیں،جب تک ان میں سے ایک امیر نہ ہو۔گویا امارت اہلِ اسلام سے جدا نہیں ہوتی،خواہ کہیں ہوں اور کسی حالت میں ہوں،اپنی طاقت کے موافق ضرور امارت قائم کریں۔ دیکھیے! سفر میں اگر تین آدمی ہوں تو ان کو بھی حکم ہے کہ ایک کو امیر بنا لیں،خواہ اسلامی حکومت میں ہوں یا کفر کی،تاکہ ان کو سفر میں آسانی رہے اور سفری ضروریات میں اختلاف اور جھگڑا نہ ہو۔پس جب امارت میں یہ شرط نہیں کہ تمام امور میں ہو،بلکہ بعض میں بھی صحیح ہے،جیسے سفری ضروریات کے لیے کسی کو امیر بنانا تو ہندوستان میں بھی اگر سب باتوں میں امارت نہیں ہوسکتی تو انہی باتوں میں سہی،جن میں حکومت تعرض نہیں کرتی،کیوں کہ آپس کی نزاع اور جھگڑے کو شریعت نے ہر طرح سے مٹایا ہے،کیوں کہ یہ سخت نقصان دینے والی شے ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (( ھي الحالقۃ۔لا أقول:تحلق الشعر،ولکن تحلق الدین )) [2] مشکاۃ (ص:۱۲۸) [یعنی یہ آپ کا جھگڑا مونڈنے والا ہے،میں یہ نہیں کہتا کہ بال مونڈتا ہے،بلکہ دین کو مونڈتا ہے] جب آپ کا جھگڑا دنیا کے علاوہ دین کا بھی ستیاناس کرنے والا ہے تو ضروری تھا کہ شریعت اس کے روکنے کی صورتیں بتلائے اور بڑی صورت روکنے کی امارت ہے۔اس لیے امارت کے متعلق شریعت نے تاکید کی۔سو جتنے امور کے متعلق امارت قائم ہو سکے،ضروری قائم کرنی چاہیے،تاکہ ان میں جھگڑا نہ ہو اور جو امور طاقت سے باہر ہیں،وہ خدا کے سپرد۔{لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} [البقرۃ:۲۸۶] تاریخ ابن ہشام وغیرہ میں ہے کہ مکہ شریف میں جب کفار نے مسلمانوں کو بہت ستایا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔پہلے دس آدمیوں نے ہجرت کی،جن کے نام یہ ہیں:عثمان،ابوحذیفہ،زبیر،مصعب،عبدالرحمن بن عوف،ابو مسلمہ بن عبدالاسد،عثمان بن مظعون،عامر بن ربیعہ،ابو سرہ بن ابی رہم،سہل بن بیضار رضی اللہ عنہم۔ان شخصوں کا ذکر کر کے لکھا ہے: [1] مسند أحمد (۲/۱۷۶) اس کی سند میں عبداﷲ بن لہیعہ ضعیف ہے۔ [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۵۰۹)