کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 618
اسماعیل بن اسحاق نے باسناد صحیح ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور پر درود بھیجنا لائق نہیں،ہاں مسلمین اور مسلمات کے لیے استغفار کرنا چاہیے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۲۶/ ۵۸) میں مسئلہ ’’صلاۃ علی غیر النبی‘‘ کو کتاب الدعوات ’’باب ھل یصلیٰ علیٰ غیر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘ کے تحت میں زیادہ بسط و تفصیل سے لکھا ہے اور اس مسئلے میں علما کے جو اختلافات ہیں،ان کو بہت وضاحت سے بیان کیا ہے،پھر عیاض کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’والذي أمیل إلیہ قول مالک وسفیان،وھو قول المحققین من المتکلمین والفقھاء،قالوا:یذکر غیر الأنبیاء بالرضا والغفران،والصلاۃ علی غیر الأنبیاء یعني استقلالاً،لم تکن من الأمر المعروف،وإنما أحدثت في دولۃ بني ھاشم‘‘[1] یعنی عیاض کہتے ہیں کہ میرا میلان مالک اور سفیان کے قول کی طرف ہے۔محققین متکلمین اور فقہا کا بھی یہی قول ہے اور وہ یہ کہ غیر انبیا کو رضا اور غفران کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور صلاۃ غیر انبیا پر استقلالاً امر معروف سے نہیں تھا،یہ تو دولت بنی ہاشم میں محدث ہوا ہے،واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] [1] فتح الباري (۱۱/ ۱۷۰) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۷)