کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 616
[ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے:انبیا و ملائکہ کے علاوہ کسی پر نہ پڑھا جائے،جس نے ان کے علاوہ کسی پر ماسوائے تبیعت کے صلاۃ پڑھا تو وہ غالی شیعہ میں سے ہے جن کو ہم رافضی کہتے ہیں ] نیز صاحبِ نیل الاوطار فرماتے ہیں: ’’إن أصل الصلاۃ الدعاء إلا أنہ یختلف بحسب المدعو لہ،فصلاۃ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم علی أمتہ دعاء لھم بالمغفرۃ،وصلاۃ أمتہ دعاء لہ بزیادۃ القربۃ والزلفیٰ،ولذلک کانت لا تلیق لغیرہ‘‘[1] انتھی سید محمد نذیر حسین [صلاۃ کی اصل دعا ہے،مگر وہ مدعو لہ کے حسبِ حال مختلف ہوتی ہے۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی امت پر صلاۃ پڑھنے کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا صلاۃ پڑھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربت میں اضافہ کرنے کی دعا کرنا ہے،لہٰذا یہ آپ کے علاوہ دوسرے کے لائق نہیں ہے] هو الموافق حافظ ابن حجر فتح الباری (۱۹/ ۲۰۵) میں لکھتے ہیں: ’’واستدل بھذا الحدیث علیٰ جواز الصلاۃ علیٰ غیر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم من أجل قولہ فیہ:وعلیٰ آل محمد،وأجاب من منع بأن الجواز مقید بما إذا وقع متبعاً،والمنع إذا وقع مستقلاً،والحجۃ فیہ أنہ صار شعاراً للنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فلا یشارکہ غیرہ فیہ،فلا یقال:قال أبوبکر صلی اللّٰه علیہ وسلم،وإن کان معناہ صحیحاً،ویقال:صلیٰ اللّٰه علیٰ النبي وعلی صدیقہ أو خلیفتہ ونحو ذلک۔وقریب من ھذا أنہ لا یقال:قال محمد عز و جل،وإن کان معناہ صحیحاً،لأن ھذا الثناء صار شعاراً للّٰه سبحانہ فلا یشارکہ غیرہ فیہ،ولا حجۃ لمن أجاز ذلک منفردا فیما وقع من قولہ تعالیٰ:وصل علیھم،ولا في قولہ:اللّٰهم صل علیٰ آل أبي أوفی،ولا في قول امرأۃ جابر:صل عليّ وعلی زوجي۔فقال:اللّٰهم صل علیھما،فإن ذلک کلہ وقع من النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ولصاحب الحق أن یتفضل من حقہ بما شاء،ولیس لغیرہ أن یتصرف إلا بإذنہ،ولم یثبت عنہ إذن في ذلک،ویقوي المنع بأن الصلاۃ علیٰ غیر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم صار شعارا لأھل الأھواء یصلون علیٰ من یعظمونہ من أھل البیت وغیرھم،وھل المنع في ذلک حرام أو مکروہ أو خلاف الأولیٰ؟ حکیٰ الأوجہ الثلاثۃ النووي في الأذکار،وصحح الثاني،وقد روی إسماعیل بن إسحاق في کتاب أحکام القرآن لہ بإسناد حسن عن عمر بن عبد العزیز أنہ کتب:أما بعد:إن ناسا التمسوا عمل الدنیا بعمل الآخرۃ،وإن ناسا من القصاص أحدثوا في الصلاۃ علیٰ [1] نیل الأوطار (۴/ ۲۱۷)