کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 615
هو الموافق اذکار اور جملہ عبادات کے لیے اخلاص اور نیت نیک نہایت ضروری ہے۔ریائی ذکر اور مکرو فریب کی عبادت ’’محنت برباد گناہ لازم‘‘ کی مصداق ہے۔نیت کا حال تو خدا کو معلوم،مگر دکان وغیرہ مناظر عامہ پر بیٹھ کر تسبیح پڑھنا اور بازاروں میں سبحہ گردانی کرتے پھرنا بظاہر ریا سے خالی نہیں۔ریا کار مکار کی تسبیح گردانی کے متعلق کسی نے کیا خوب کہا ہے . سبحہ در دست تو ہمی گوید دل بگردان مرا چہ گردانی [ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح تجھے کہتی ہے،دل کو پھیرو،مجھے کیا پھیرتے ہو] ہاں یہ بھی واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس تسبیح مروجہ کا وجود نہیں تھا۔علامہ قاری مرقاۃ شرح مشکات میں لکھتے ہیں: ’’من توضأ فأحسن الوضوء،ثم أتیٰ الجمعۃ فاستمع وأنصت غفرلہ ما بینہ وبین الجمعۃ وزیادۃ ثلاثۃ أیام،ومن مس الحصیٰ فقد لغا۔المراد بمس الحصی تسویۃ الأرض للسجود فإنھم کانوا یسجدون علیھا،وقیل تقلیب السبحۃ وعدھا،ذکرہ الطیبي،وفیہ أن السبحۃ المعروفۃ لم تکن في زمن اللنبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘[1] انتھیٰ۔واللّٰه تعالی أعلم،وعلمہ أتم۔ [جو آدمی اچھی طرح وضو کر کے جمعے کے لیے آئے اور خطبہ خاموشی سے سنے،اس کے گناہ پچھلے جمعے سے لے کر اس جمعے تک دو تین دن کے زائد گناہ بھی بخشے جاتے ہیں اور جس نے کنکری کو چھوا اس نے لغو کیا۔کنکری کو ہاتھ لگانے سے مراد سجدے کے لیے زمین کو برابر کرنا ہے۔بعض نے اس کا مطلب تسبیح پھیرنا لیا ہے،لیکن یہ موجودہ تسبیح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] صلاۃ و سلام پڑھنے کی مسنون کیفیت: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ بلا معیت و تبعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امام یا اہلِ بیت یا اصحاب پر صلاۃ و سلام کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:واضح ہو کہ صلاۃ بلا تبعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی پر جائز نہیں ہے۔ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰه:لا یصلیٰ علی غیر الأنبیاء والملائکۃ،ومن صلیٰ علی غیرھما،لا علیٰ وجہ التبعیۃ،فھو غال من الشیعۃ التي نسمیھا الروافض‘‘ انتھیٰ [1] مرقاۃ المفاتیح (۳/ ۱۰۳۰) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۱۲)