کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 614
اللّٰه ‘‘ ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔حررہ:السید أبو الحسن،عفي عنہ۔سید محمد نذیر حسین هو الموافق بے شک ذکر اور وظیفہ کے لیے صرف ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ ہے اور ذکر ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کے ساتھ ’’محمد رسول اللّٰه ‘‘ کا انضمام کسی روایت سے ثابت نہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(( أفضل الذکر لا إلٰہ إلا اللّٰه،وأفضل الدعاء الحمد للّٰه )) [1] (رواہ الترمذي وابن ماجہ) یعنی افضل الذکر لا الٰہ الا اﷲ ہے اور افضل دعا الحمد ﷲ ہے۔اس حدیث کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔کذا في المشکوۃ۔وقال الحافظ فی الفتح (۲۶/۷۶):’’و حدیث أفضل الذکر لا إلٰہ إلا اللّٰه أخرجہ الترمذي والنسائي،وصححہ ابن حبان والحاکم‘‘ نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے رب مجھے کوئی ایسی شے بتا کہ اس کے ساتھ تجھ کو یاد کروں اور دعا کروں تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے رب! اس کو تیرے تمام بندے کہتے ہیں،میں ایسی شے چاہتا ہوں جس کو تو میرے ساتھ خاص کر دے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے میرے سوا اور ساتوں زمین ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لا الٰہ الا اﷲ ایک پلڑے میں رکھا جائے تو لا الٰہ الا اﷲ والا پلڑا جھک جائے گا۔کیا اس حدیث کو بغوی نے شرح السنۃ میں ہے۔کذا في المشکوۃ۔ وقال الحافظ في الفتح (۲۶/ ۷۷):’’أخرج النسائي بسند صحیح عن أبي سعید عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال موسیٰ:یا رب علمني شیئاً أذکرک بہ،قال:قل:لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘[2]،ثم ذکر الحافظ بنحو لفظ شرح السنۃ،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] کیا دکان اور بازار وغیرہ میں تسبیح کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ سوال:تسبیح کا پڑھنا بازار میں اور دکان وغیرہ مواضع پر پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:بحکم آیت:{لَا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرَ اللّٰہ} [النور:۳۷] [وہ ایسے آدمی ہیں کہ ان کو خرید و فروخت خدا کی یاد سے نہیں روک سکتی] بازار میں اور دکان وغیرہ مواضع پر تسبیح و تہلیل و تحمید و ذکر اﷲ جائز ہے،بشرطیکہ ریا سے خالی ہو اور اظہارِ صلاح و تقویٰ کی غرض سے نہ ہو۔مکرو فریب کے لیے ہاتھ میں تسبیح لیے پھرنا اور بازار میں اور دکان وغیرہ مجمع عام میں بیٹھ کر سبحہ گردانی کرنا سخت ممنوع و ناجائز ہے۔واللّٰه أعلم وعلمہ أتم۔ سید محمد نذیر حسین [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۳۸۳) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۸۰۰) [2] سنن النسائي الکبریٰ (۶/ ۲۰۸) شرح السنۃ (۲/ ۴۰۰) مشکاۃ المصابیح (۲/ ۲۰) [3] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳)