کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 613
پھر وہ شخص بولا:’’أنا قلتھا،لم أرد بھا إلا خیراً۔فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:رأیت بضعۃ وثلاثین ملکا یبتدرونھا أیھم یکتبھا أول‘‘[1] یعنی تیس سے زیادہ کچھ فرشتے اس کے لکھنے کے واسطے آئے تھے،ہر ایک چاہتا تھا کہ میں اس کو پہلے لکھوں۔ اس سے صاف ثابت ہوا کہ ماثور پر زیادت جائز ہے،کیونکہ یہ دعا اس شخص نے اپنی طرف سے ماثور پر زیادہ کی تھی۔اگر یہ تعلیمِ نبوی ہوتی تو خوف کس بات کا تھا،جس سے وہ سکوت کرتا رہا اور جواب نہ دے سکا؟ اسی طرح ایک شخص نے نماز میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چھینک کر یہ دعا پڑھی:’’الحمد للّٰه کثیراً طیباً مبارکاً علیہ کما یحب ربنا ویرضیٰ‘‘ [سب تعریفیں اﷲ ہی کی ہیں،بہت زیادہ تعریف،پاکیزہ اور برکت والی،جیسی ہمارا رب پسند کرے اور جس پر راضی ہو] آپ نے نماز سے فارغ ہو کر دو دفعہ پوچھا:یہ پڑھنے والا کون تھا؟ کوئی نہ بولا،تیسری دفعہ پھرپوچھا:آخر وہ شخص بولا کہ یا رسول اﷲ! میں نے پڑھا ہے:’’قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لقد ابتدرھا بضعۃ وثلاثون ملکا أیھم یصعد بھا‘‘[2] (رواہ أبو داود و الترمذي والنسائي) ’’آپ نے فرمایا کچھ اوپر تیس فرشتے دوڑے ان کلمات کے لیے کہ کون اوپر لے جائے گا۔‘‘ حدیث میں تو فقط چھینک کے واسطے اس قدر وارد ہے:(( الحمد للّٰه علیٰ کل حال )) [3] [ہر حال میں خدا کی تعریف ہے] یہ زیادت اس شخص نے اپنی طرف سے کی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی،اس کے نظائر بکثرت ہیں۔اگر کل کا استیعاب کیا جائے تو ایک مستقل کتاب بنے گی،غرضیکہ اس قسم کے زیادات بدعت سے نہیں۔’’فمن تطوع خیراً فھو خیرلہ‘‘ [جو خوشی سے نیکی کرے،وہ اس کے لیے بہتر ہے] میں داخل ہیں۔ فقط عبد الجبار،عفی عنہ سید محمد نذیر حسین هو الموافق اس مسئلے کی تحقیق عون المعبود شرح سنن ابی داود (۴/ ۴۰۹) میں بسط کے ساتھ کی گئی ہے۔من شاء زیادۃ التحقیق فلیرجع إلیہ۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[4] کیا ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه ‘‘ کا وظیفہ کرنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ وظیفہ ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه ‘‘ کا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب:وظیفہ مجموعہ ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه ‘‘ کا ثابت نہیں ہے۔وظیفہ کے واسطے صرف ’’لا إلٰہ إلا [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۶۶) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۷۷۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۴۰۴) سنن النسائي،رقم الحدیث (۹۳۱) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۰۳۳) [4] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۱)