کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 612
کتاب الأذکار والدعوات کام کے آغاز میں بسم اﷲ کے کتنے الفاظ پڑھنے چاہئیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ جمیع امورِ نیک مثل وقتِ وضو یا کھانے یا پینے یا وقتِ جماع وغیرہ کے،سوائے شروع سورت قرآن شریف کے،پوری بسم اﷲ یعنی ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھنی سنت ہے یا فقط ’’بسم اللّٰه ‘‘ ہی پر اکتفا کرنا چاہیے اور در صورت پوری ’’بسم اللّٰه ‘‘ پڑھنے کے بدعت ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ جواب:میرے فہم میں یہ سب تشددات ہیں۔الفاظِ ماثورہ پر اگر کچھ الفاظِ حسنہ زیادہ ہوجائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح مسلم وغیرہ کتبِ حدیث میں موجود ہے کہ عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ تلبیہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی قدر تھا:(( لبیک اللّٰهم لبیک،لا شریک لک لبیک،إن الحمد والنعمۃ لک،والملک لا شریک لک )) [1] [میں تیری جناب میں حاضر ہوں اے اﷲ! میں حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں،میں حاضر ہوں حمد اور نعت تیری ہے،بادشاہی تیری ہے،تیرا کوئی شریک نہیں ] اور عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما اس پر یہ کلمات زیادہ کرتے تھے:’’لبیک وسعدیک والخیر بیدیک،لبیک والرغباء إلیک والعمل‘‘[2] [میں تیری بابرکت جناب میں حاضر ہوں،بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے،میں حاضر ہوں،تمام رغبتیں اور عمل تیرے ہی لیے ہیں ] بہت مواضع میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام اور علماے اسلام الفاظِ ماثورہ پر درود شریف اور دعوات میں بعض الفاظ زیادہ کرتے تھے اور یہ تعامل بلا نکیر جاری رہا۔نماز میں بھی اگر ادعیہ ماثورہ پر زائد دعا پڑھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔دیکھو صحیح بخاری وغیرہ کتبِ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے،جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتا تھا،قومہ میں یہ دعا پڑھی:’’ربنا ولک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ‘‘ [اے اﷲ تیرے ہی لیے تعریف ہے بہت زیادہ تعریف،پاکیزہ اور برکت والی تعریف] جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوگئے،آپ نے فرمایا:یہ کلمات کس نے پڑھے؟ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے تین دفعہ فرمایا۔صحابہ ساکت ہوگئے اور پڑھنے والا ڈر گیا کہ شاید آپ میرے پڑھنے سے ناراض ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا:’’من القائل؟ فإنہ لم یقل بأساً‘‘ یعنی کس نے یہ کلمات کہے ہیں ؟ اس نے کوئی بری بات نہیں کی۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۴۷۴) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۸۴)