کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 610
ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:أبو العلیٰ محمد عبد الرحمن المبارکفوري۔عفا اللّٰه عنہ۔الأجوبۃ صحیحۃ۔کتبہ:محمد عبداللّٰه۔المجیب مصیب عندي،واللّٰه أعلم بالصواب۔أبو محمد إبراہیم،مہتمم مدرسہ أحمدیہ،آرہ۔[1] غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے قبرستان وغیرہ امور میں مداخلت کرنا: سوال:میونسپلٹی مسلمانان سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر امر مانع ہو تو اُس قطعہ زمین میں دفن کرو،جو اس کام کے لیے میونسپلٹی اپنے روپے سے خرید کرے۔انتظام اس زمین کا اور مسلمانوں کے مردے دفن ہونے کا میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن،ان مردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہ ہوسکتی ہو،ایک فیس مقرر لے گی اور خام و پختہ میں فرق ہوگا۔میونسپلٹی یہ قاعدہ بنانے پر اس لیے مجبور ہوئی ہے کہ اس کو خیال ہے کہ متفرق اندرون آبادی مردوں کے جا بجا دفن ہونے سے صحت کو ضرر پہنچتا ہے۔ میونسپلٹی ایک ایسا محکمہ ہے،جس نے حقوق و احکام شاہی سے رفاہِ عام کے لیے قریب قریب تمام اشیا پر (مستثنیات جزوی کے سوا) جو باہر سے اندرون میونسپلٹی بغرضِ تجارت یا خاص استعمال آئیں،چنگی لینے کا عام رعایا سے قاعدہ مقرر کیا ہے،خواہ رعایا کسی قوم و مذہب کی ہو۔واجب الادا مال کی چنگی نہ ادا ہونے پر وہ مال ضبط ہو جاتا ہے یا جرمانہ لیا جاتا ہے۔بہت زیادہ حصہ رعایا کا اس چنگی کو بہت کراہت اور مجبوری کے ساتھ ادا کرتا ہے۔میونسپلٹی اس رقم چنگی سے جس میں ہندو مسلمانوں وغیرہ کا روپیہ شامل ہے،مسلمان مردوں کے لیے قطعہ زمین خرید کرنا چاہتی ہے اور زمین خریدنے کا یہ قاعدہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو،بیچنا نہ چاہتا ہو یا کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو،مگر اُس کی پروا نہیں کی جائے گی،نہ وہ راضی کیا جائے گا،بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقرر قیمت اس کو دے دی جائے گی اور اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے جس کی تشریح اوپر کی گئی اور اس طرح زمین کا معاوضہ بالجبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا،شرعاً ناجائز و غصب ہے یا نہیں اور اُس میں مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے جائز ہے یا ناجائز؟ مکروہ ہے یا حرام اور مردہ دفن کرنے والا داخل معصیت ہے یا نہیں ؟ ریاض الاخبار پریس،گورکھپور جواب:1 گورنمنٹ کا زمین کو معاوضہ بالجبر کے ساتھ خریدنے کے جواز و عدمِ جواز کے ہم جواب دہ نہیں ہیں۔رہا اس میں مسلمان مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے مجبور مسلمانوں کے لیے تو یہ جائز ہے اور وہ [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری،(ص:۷۲۲)