کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 609
توبۃ،وعند المعتزلۃ تفصیل في المسألۃ،فإن کانت کبیرۃ یخرج من الإیمان،ولا یدخل في الکفر إلا أنہ مخلد في النار،وإن کانت صغیرۃ واجتنب الکبائر لا یجوز التعذیب علیھا،وإن ارتکب الکبائر لا یجوز العفو عنھا،ورد علیھم بأجمعھم قولہ سبحانہ:{وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ}‘‘ [خوارج کے نزدیک صغیرہ و کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے اور اگر وہ بغیر توبہ کیے مر گیا تو وہ ہمیشہ آگ میں رہے گا۔معتزلہ کے نزدیک اس مسئلے میں تفصیل ہے:اگر تو اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا تو وہ ایمان سے خارج ہوجائے گا اور وہ کفر میں داخل نہیں ہوگا،ہاں ! وہ آگ میں ہمیشہ رہے گا۔اگر اس کا گناہ صغیرہ ہو اور وہ کبیرہ سے اجتناب کرے تو اسے عذاب کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ کبائر کا مرتکب ہو تو اسے معاف کرنا جائز نہیں ہے۔یہ فرمانِ باری تعالیٰ:{وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ} [اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے،جسے چاہے گا] ان تمام باتوں کا رد کرتا ہے] ’’غنیۃ الطالبین‘‘ (ص:۱۵۶ چھاپہ لاہور) میں ہے: ’’ونعتقد أن المؤمن،وإن أذنب ذنوبا کثیرۃ من الکبائر والصغائر،لا یکفر بھا،وإن خرج من الدنیا بغیر توبۃ،إذا مات علی التوحید والإخلاص،بل یرد أمرہ إلی اللّٰه عزوجل إن شاء عفا عنہ وأدخلہ الجنۃ،وإن شاء عذبہ وأدخلہ النار‘‘ واللّٰه أعلم بالصواب [ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ مومن کو،اگرچہ وہ بہت سے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوچکا ہو،ان کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا جائے گا،اگرچہ وہ بغیر توبہ کے دنیا سے رخصت ہوا ہو،بشرطیکہ اس کی موت توحید اور اخلاص پر واقع ہوئی ہو،بلکہ اس کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے گا۔چاہے تو اسے معاف کر کے جنت میں داخل کرے اور چاہے تو اسے عذاب دینے کے لیے آگ میں داخل کرے] کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبدالرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔مدرس مدرسہ أحمدیہ آرہ[1] شوہر کا عملِ ولادت سرانجام دینا: سوال:عورت حاملہ ہے،جس وقت اس کو لڑکا پیدا ہونے کا درد شروع ہو،اس وقت دائی کے بجائے اپنے ہاتھ سے عملِ ولادت سر انجام دینا چاہیے یا نہیں ؟ جواب:ولادت کے وقت کا کام جس عورت سے انجام پا سکے،کر سکتی ہے،دائی کی شرط نہیں۔شوہر بھی اس کام کو کر سکتا [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۷۰۴)