کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 605
کو ایسے الفاظ کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔کتاب ’’الترغیب والترہیب‘‘ (ص:۵۰۳) للحافظ المنذري میں ہے: عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( إذا قال الرجل لأخیہ:یا کافر! فقد باء بھا أحدھما،فإن کان کما قال،وإلا رجعت علیہ )) [1] (رواہ مالک و البخاري ومسلم و أبو داود والترمذي) [سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کو کہے:اے کافر! تو ان میں سے کوئی ایک ضرور (ایمان سے) کفر کی طرف لوٹا۔اگر وہ جسے یہ کہا گیا ایسا ہے تو وہ کفر کی طرف لوٹا،ورنہ یہ حکم کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے] وعن أبي ذر رضی اللّٰه عنہ أنہ سمع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:(( ومن دعا رجلا بالکفر أو قال:عدواللّٰه،ولیس کذلک إلا حار علیہ )) [2] واللّٰه أعلم بالصواب۔ [سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:جس شخص نے کسی شخص کو کافر کہہ کر پکارا یا کہا:اﷲ کے دشمن! جب کہ وہ ایسا نہ ہو تو وہ بات اس (کہنے والے) پر لوٹ آتی ہے] 2۔اس صورت میں ضرور تفریقِ جماعت کا الزام اس شخص پر آیا اور بے شبہہ {وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ} کا خلاف اس سے ہوا۔ 3۔ایسی حالت میں یہ لوگ شرعاً مذموم ہیں،نہ کہ ممدوح۔جو لوگ دنیا کے بندے ہیں کہ جس سے ان کو دنیا ملے،اس سے خوش رہیں اور جس سے نہ ملے ناخوش،ایسے لوگوں کے حق میں حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت بد دعا فرمائی ہے۔کتاب ’’الترغیب والترہیب‘‘ (ص:۲۴۸) للحافظ المنذري رحمہ اللّٰه میں ہے: عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( تعس عبد الدینار و عبد الدرھم وعبد الخمیصۃ )) زاد في روایۃ:(( و عبد القطیفۃ،إن أعطي رضي،وإن لم یعط سخط،تعس وانتکس،وإذا شیک فلا انتقش )) [3] الحدیث (رواہ البخاري) [سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:دینار،درہم اور پوشاک کا (پرستار) بندہ ہلاک ہوا،اگر اسے دیا جائے تو خوب اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوتا ہے،وہ ہلاک ہوا اور ذلیل ہوا،جب اسے کانٹا چبھے تو نکالا نہ جائے۔۔۔الحدیث] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۷۵۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۰) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۸۷) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۳۷) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۱) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۷۳۰)