کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 603
’’استنبط منہ القرطبي استحباب جلوس العالم بمکان یختص بہ،ویکون مرتفعا إذا احتاج لذلک لضرورۃ تعلیم ونحوہ‘‘ انتھیٰ [امام قرطبی نے اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ عالم کے لیے کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا مستحب ہے جو اس کے لیے خاص کی گئی ہو اور وہ جگہ تعلیم دینے کے تحت زمین سے اونچی ہو سکتی ہے] کیا دو دو تین تین دن کے جلسوں میں علما کا بیان درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ اس زمانے میں بعض بعض دینی جلسے دو دو تین تین روز ہوتے رہتے ہیں اور باستثناے اوقاتِ طعام و نماز تمام دن حضرات علما یکے بعد دیگرے بیان کرتے رہتے ہیں،پس سوال یہ ہے کہ دن بھر حضرات علما کا یکے بعد دیگرے بیان کرتے رہنا جائز ہے یا نہیں ؟ زمانہ سلف صالحین میں ایسا پایا گیا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔ جواب:جائز ہے۔ تائید صحیح مسلم شریف (۲/ ۳۹۰) میں ابو زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’قال:صلی بنا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم الفجر،وصعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظھر،فنزل فصلی،ثم صعد المنبر حتی حضرت العصر،ثم نزل فصلی،ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس،فأخبرنا بما کان،وبما ھو کائن فأعلمنا أحفظنا‘‘[1] یعنی ابو زید نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ فجر کی نماز پڑھی،پھر منبر پر چڑھے،پس ہم لوگوں کو خطبہ سنایا،یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا،پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھی،پھر منبر چڑھے،پس ہم لوگوں کو خطبہ سنایا،تاآنکہ عصر کا وقت آگیا،پھر آپ نے منبر سے اتر کر نماز پڑھی،پھر وعظ شروع کیا،حتی کہ آفتاب غروب کر گیا،پس خبر دی آپ نے گذشتہ اور آیندہ باتوں کی،پس ہم میں جو زیادہ حافظ تھا اس نے یاد کر لیا۔ حررہ:أبو الفضل عبد السمیع المبارکفوري،غفرلہ ولوالدیہ۔ تفریقِ جماعت اور دوسروں پر لعن طعن کرنے کی ممانعت: سوال 1:اس طرف کچھ ایسے لوگ ہیں کہ آپس میں جب لڑتے ہیں،ایک دوسرے کو کافر مردود کہتے ہیں۔الزام کے دینے کے وقت کہتے ہیں کہ ہاں ہم ایسے ہیں،ایسا کرتے ہیں۔کیا مسلمانوں کو یہ الفاظ کہنا جائز ہے؟ 2۔ہمارے یہاں ایک شخص آیا،کچھ مسائل میں گفتگو ہوئی۔ہماری طرف سے چند تحریر پیش ہوئی۔سب سوالات کا یہ جواب دیا کہ یہ سب غلط اور بے قاعدہ ہیں۔کہا گیا غلطی دور کر کے بعد اصلاح قاعدے سے جواب دیا جائے۔ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۸۹۶)