کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 602
قال:نعم‘‘[1] الحدیث [ابو غادیہ نے کہا:میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ابو سعید نے پوچھا:کیا دائیں ہاتھ سے بیعت کی تھی؟ کہنے لگے:ہاں ] ان صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیعت کے وقت ایک ہاتھ،یعنی دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہے اور انھیں احادیث سے مصافحہ عند الملاقات کا بھی ایک ہی ہاتھ سے مسنون ہونا صاف ظاہر ہوتا ہے،اس واسطے کہ مصافحہ بیعت اور مصافحہ ملاقات کی حقیقت و کیفیت میں شریعت سے کچھ فرق ثابت نہیں ہے۔ان احادیث مذکورہ کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں،جن سے صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کا سنت ہونا ثابت ہے اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کے سنت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین کیا دینی جلسے میں عوام زمین پر جبکہ علما چبوترے پر بیٹھ سکتے ہیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے کی بابت کہ اگر کسی دینی جلسے میں تمام حاضرینِ جلسہ کے لیے زمین پر فرش کیا جائے اور فقط علمائے کرام کے لیے تخت بچھایا جائے یا چبوترہ بنایا جائے،پس تمام لوگوں کو زمین پر بٹھایا جائے اور حضراتِ علما کو تخت یا چبوترہ پر ان کی توقیر و اکرام کے لحاظ سے اور اس خیال سے کہ تمام حاضرینِ جلسہ ان کو پہچان لیں اور معلوم کر لیں کہ یہ بالا نشین حضرات اہلِ علم ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ اصولِ مساوات کے خلاف ہے،ایسا نہیں کرنا چاہیے؟ جواب:جائز ہے۔سنن ابو داود اور نسائی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یجلس بین أصحابہ فیجئ الغریب فلا یدري أیہم ھو؟ فطلبنا إلیہ أن نجعل لہ مجلساً یعرفہ الغریب إذا أتاہ۔قال:فبنینا لہ دکانا من طین کان یجلس علیہ‘‘[3] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں اس طرح تشریف فرما ہوتے تھے کہ کوئی اجنبی آدمی آتا تو وہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ؟ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے لیے مخصوص جگہ بنا دیں،تاکہ اجنبی آدمی آئے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان سکے۔اجازت ملنے پر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کا ایک تھڑا بنا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے تھے] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس روایت کو فتح الباری (۱/ ۶۱) میں ذکر کر کے لکھتے ہیں: [1] مسند أحمد (۵/ ۶۸) [2] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۲۲) [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۹۸) سنن النسائي،رقم الحدیث (۴۹۹۱)