کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 600
حافظ ابن عبدالبر تمہید شرح موطا میں لکھتے ہیں: ’’حدثنا عبد الوارث بن سفیان قال:ثنا قاسم بن أصبغ ثنا ابن وضاح قال:ثنا یعقوب بن کعب قال:ثنا مبشر بن إسماعیل عن حسان بن نوح عن عبید اللّٰه بن بسر قال:ترون یدي ھذہ؟ صافحت بھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘[1] وذکر الحدیث۔ یعنی عبید اﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا:تم لوگ میرے اس ہاتھ کو دیکھتے ہو،میں نے اپنے اسی ایک ہاتھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔اس حدیث سے بصراحت ثابت ہوا کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا مسنون ہے،نیز اس حدیث کی تائید انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے: ’’عن أنس بن مالک قال:صافحت بکفي ھذہ کف رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فما مسست خزا ولا حریرا ألین من کفہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘ ذکرہ العلامۃ محمد عابد السندي في حصر الشارد،والعلامۃ الشوکاني في إتحاف الأکابر وغیرھما من المحدثین في مسلسلاتھم۔[2] [انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا،میں نے کوئی ریشم کوئی پٹ اتنا نرم اور ملائم نہ پایا،جتنا کہ آپ کا ہاتھ تھا] نیز اس حدیث کی تائید ابو امامہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے: ’’عن أبي أمامۃ:تمام التحیۃ الأخذ بالید والمصافحۃ بالیمنیٰ‘‘[3] رواہ الحاکم في الکنیٰ۔ [ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مکمل تحیہ ہاتھ کو پکڑنا ہے اور دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہے] ایک ہاتھ سے مصافحہ عند الملاقات کے سنت ہونے کا ثبوت احادیثِ مصافحہ عند البیعہ سے بھی ہوتا ہے،اس واسطے کہ ان دونوں وقتوں کے مصافحہ کی حقیقت و کیفیت ایک ہے،ان دونوں مصافحہ کی حقیقت و کیفیت میں شرعاً کچھ فرق ثابت نہیں ہے اور بیعت کے وقت ایک ہی (دائیں)ہاتھ سے مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہے۔مشکات شریف (صفحہ:۶) میں ہے: ’’عن عمرو بن العاص قال:أتیت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقلت:ابسط یمینک فلأبایعک فبسط یمینہ فقبضت یدي،فقال:ما لک یا عمرو؟ قلت:أردت أن أشترط‘‘[4] الحدیث۔(رواہ مسلم) [عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے،میں آپ سے بیعت کروں۔ [1] التمھید لما في الموطأ من المعاني والأسانید (۱۲/ ۲۴۶) [2] إتحاف الأکابر (ص:۹۲) حصر الشارد من أسانید محمد عابد (ص:۵۴۱۔۵۴۲) [3] ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۲۴۷۹) نیز دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ،رقم الحدیث (۱۲۸۸) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۱)