کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 60
[رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ اس کے پاس عرش پر ہے] (( وَقَالَ:أَدْخُلُ عَلیٰ رَبِّيْ،وَھُوَ عَلیٰ عَرْشِہِ )) [1] [اور فرمایا:میں اپنے رب کے پاس جاؤں گا اور وہ اپنے عرش پر ہے] اس کو بخاری نے روایت کیا۔ ائمہ دین میں سے صرف ائمہ اربعہ کا قول یہاں نقل کر دیا جاتا ہے: 1۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے وصیت میں فرمایا کہ ہم اقرار کرتے ہیں اس بات کا کہ اﷲ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے،اس کے بغیر کہ اس کو حاجت ہو۔ 2۔امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ استوا معلوم ہے اور کیفیت نامعلوم اور ایمان اس پر واجب اور سوال اس کی کیفیت سے بدعت۔ طبرانی نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ قائل ہیں استوا کے۔ 4۔امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے،جس طرح اس نے کہا۔[2] واللّٰه تعالیٰ أعلم،وعلمہ أتم۔ حررہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري عفا اللّٰه عنہ۔[3] سید محمد نذیر حسین عقیدۂ تناسخ شریعت کی روشنی میں: سوال:چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیانِ شرع متین دربارہ شخصے محمد حسین نامی از اولاد حضرت بابا فرید الدین چشتی پاک پٹنی رحمہ اللہ کہ خلاف عقاید اہلِ اسلام قائل تناسخ شدہ است و الزام دروغ گوئی خویش بنام گرامی بابا فرید الدین گنج شکر صاحب منسوب ساختہ در رسالہ ’’سیف فریدی‘‘ مطبوعہ مطبع دبیرہند واقع شہر امرت سر پنجاب،بالائے صفحہ شصت و یک ایں ابیات کہ دال بر دعویٰ باطلہ تناسخ وے اند۔برائے معاینہ و مشاہدہ علما و فضلا نقل ابیات وے رقم می شود تاکہ عقاید باطلہ وے معلوم گردد۔نقل ابیات از سیف فریدی ع کروں پہلے تعریف ہائے رسول لکھوں حال پیر اپنے کا ہو قبول یہ تھا حکم بابا فرید زماں سہ کرر لکھا دیکھا میں نے عیاں [1] یہ الفاظ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب ’’العلو‘‘ (۳۸) میں مذکور ہیں۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں ’’زائدہ‘‘ راوی ضعیف ہے۔پھر لکھتے ہیں:’’والمتن بنحوہ في الصحیح للبخاري:۔۔۔(( فأستأذن علی ربي في دارہ فیؤذن لي علیہ )) دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۰۰۲) [2] کتاب العلو للذھبي (ص:۱۳۶،۲۶۲) [3] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۳)