کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 598
رکھیں کہ درست اور سنت ہے۔‘‘ سو مجیب کا یہ فرمانا ٹھیک نہیں ہے۔اس واسطے کہ رخصت ہوتے وقت کے مصافحہ کے درست اور سنت ہونے کو مجیب نے حدیث ’’کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم إذا ودع رجلا أخذ بیدہ فلا یدعھا الخ‘‘ [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو الوداع کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک وہ خود نہ چھوڑتا] سے ثابت کیا ہے،حالانکہ اس حدیث سے صرف مسافر کے رخصت کرتے وقت مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے اور غیر مسافر کے لیے رخصت ہوتے وقت کا مصافحہ اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ اس حدیث میں تودیع سے مراد مسافر کو رخصت کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں جانے والے کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے اور یہ دعا کرتے: (( أستودع اللّٰه دینک وأمانتک وآخر عملک )) [میں تیرے دین اور امانت اور انجام کار خدا کے سپرد کرتا ہوں ] دیکھو:شروحِ حدیث لغت کی کتب۔ہاں جامع ترمذی میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو یہ جملہ مروی ہے:(( وتمام تحیاتکم بینکم المصافحۃ )) [1] یعنی تم لوگوں کے سلام کی تمامی مصافحہ کرنا ہے،یعنی سلام جب ہی پورا اور مکمل ہوگا کہ سلام کے ساتھ مصافحہ بھی کرو۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی اس جملے کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: ’’تمام و کمال سلامہائے شماکہ میان یک دیگر می کنید مصافحہ است یعنی چوں سلام کنید مصافحہ نیز بکنید تا سلام تمام شود و کامل گردد‘‘[2] [یعنی تمھارا پورا سلام جو تم ایک دوسرے سے کرتے ہو مصافحہ ہے،یعنی جب سلام کرو تو مصافحہ بھی کرو،تاکہ سلام پورا ہوجائے] سو حدیث کے اس جملے سے رخصت ہوتے وقت کا مصافحہ مسافر اور غیر مسافر ہر ایک کے لیے البتہ ثابت ہوتا ہے،کیونکہ رخصت ہوتے وقت مسافر اور غیر مسافر ہر ایک کے لیے سلام کرنا بلاشبہہ مسنون ہے اور سلام کی تمامی مصافحہ کرنا ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ رخصت ہوتے وقت مسافر اور غیر مسافر ہر ایک کے لیے مصافحہ کرنا مسنون ہے،لیکن جامع ترمذی کی یہ حدیث ضعیف و ناقابل احتجاج ہے۔امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد لکھا ہے:’’ھذا إسناد لیس بالقوي‘‘ یعنی اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے،اس کی نسبت ترمذی نے امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ یہ ضعیف ہے اور خلاصہ میں اس کی نسبت لکھا ہے:’’قال البخاري:منکر الحدیث‘‘[3] یعنی [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۳۱) اس کی سند میں ’’عبید اﷲ بن زحر‘‘ اور ’’علی بن یزید‘‘ ضعیف ہے۔ [2] أشعۃ اللمعات (۴/۲۴) [3] الخلاصۃ للخزرجي (ص:۲۷۸)