کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 596
النساء )) [1] یعنی میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔نیز سنن ابن ماجہ کے اسی باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،وہ فرماتی ہیں کہ قسم ہے اﷲ تعالیٰ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔[2] اگر کوئی صاحب یوں کہے کہ یہ صرف بیعت کے بارے میں ہے تو میں یہ جواب دوں گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ (( إني لا أصافح النساء )) عام ہیں،اس عموم میں سے محرم عورتیں خاص ہوگئیں بوجہ حدیث مذکورہ بالا کے،جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مصافحہ کرنے کا بیان ہے۔باقی سب عورتیں ہر صورت سے اس عموم نہی میں داخل رہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ایک ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے۔کچھ یہ نہیں کہ چند روز کے بعد ملاقات ہو،تب ہی سنت ہو۔ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ مصافحہ میں سنت طریقہ یہی ہے کہ ایک ہاتھ سے کیا جائے،دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت نہیں ہے۔دونوں ہاتھوں کا بیان تو اس طرح ہوتا ہے،جس طرح تیمم کے بیان والی حدیثوں میں ہوا ہے،چنانچہ مشکاۃ (صفحہ:۴۶،باب التیمم) میں صحیح بخاری کی روایت سے آیا ہے: ’’فضرب النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم بکفیہ الأرض،ونفخ فیہما،ثم مسح بھما وجہہ وکفیہ‘‘[3] یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان دونوں میں پھونک ماری،پھر ان دونوں کو اپنے چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھوں پر ملا۔صحیح مسلم کا لفظ اسی روایت میں یوں ہے:(( إنما یکفیک أن تضرب بیدیک الأرض )) [4] یعنی فرمایا کہ تجھ کو کفایت کرتا تھا کہ تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتا۔پس مصافحہ کی حدیثوں میں ’’ید‘‘ کا لفظ اور تیمم کی حدیث میں ’’یدین‘‘ اور ’’کفین‘‘ کا لفظ آنا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ مصافحہ ایک ہی ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو روایت آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو التحیات کا پڑھنا سکھایا اور اس وقت میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں تھا۔[5] اس سے بعض علما دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کی سنت نکالتے ہیں،لیکن انصاف کی رو سے یہ حدیث مصافحہ کے بارے میں نہیں اور ہوسکتی بھی نہیں،اس لیے کہ اس میں مصافحہ کرنے کا ذکر نہیں ہے،بلکہ تعلیم اور تذکیر کا بیان ہے۔یہ عام دستور ہے اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ضروری [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۸۷۴)۔قولہ:(( إني لا أصافح النساء )) أخرجہ أیضاً الترمذي والنسائي۔الجامع الصغیر۔(أبو سعید محمد شرف الدین،عفي عنہ) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۸۴۵) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۳۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۶۸) [4] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۶۸) [5] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۹۱۰)