کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 595
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وسیع الحلم اور عظیم الخلق تھے کہ جب کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو جب تک وہی شخص اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ مبارک سے جدا نہ کرتا،تب تک آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے جدا نہ فرماتے۔ مشکاۃ (کتاب الدعوات،صفحہ:۲۰۶) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے آیا ہے: ’’کان النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم إذا ودع رجلا أخذ بیدہ فلا یدعھا حتی یکون الرجل ھو یدع ید النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ویقول:أستودع اللّٰه دینک وأمانتک وآخر عملک‘‘[1] یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے،پھر نہ چھوڑتے اس کو جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کے مبارک ہاتھ کو نہ چھوڑتا اور آپ اس وقت یعنی رخصت کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے،جس کا ترجمہ یوں ہے کہ میں تیرے دین و امانت کو اور کاموں کے انجام کو اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ مشکاۃ باب المصافحہ میں ابو داود کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آتیں تو آپ ان کا ہاتھ پکڑتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔[2] ان حدیثوں سے کئی مسئلے معلوم ہوئے۔ایک یہ کہ ملنے والے کی تعظیم کے واسطے جھک جانا درست نہیں ہے۔معانقہ کی بابت حدیث اول میں ممانعت ہے اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے جواز معلوم ہوتا ہے جو ترمذی (۲/۱۰۹) میں ہے،مگر ترمذی والی روایت میں چونکہ یہی مذکور ہے کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اس وقت سفر سے آئے تھے،لہٰذا دونوں روایتوں کے جمع کرنے سے یہ مسئلہ نکلا کہ جب سفر سے آئے تب معانقہ درست ہے اور ہر وقت کی ملاقات میں معانقہ منع ہے،صرف مصافحہ کرنا سنت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح آتے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے،اسی طرح رخصت ہوتے وقت بھی سنت ہے،حالانکہ اکثر لوگ یوں کہتے ہیں کہ رخصت ہوتے وقت کا مصافحہ درست نہیں ہے،پس یاد رکھیں کہ یہ بھی درست اور سنت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ملنے والے محرم ہوں تو عورت مرد کو بھی باہم مصافحہ درست ہے،جیسے باپ بیٹی یا بھائی بہن یا خاوند زوجہ وغیرہم،مگر بعض مولوی یا پیر زادے چونکہ نا محرم عورتوں سے بھی مصافحہ کرتے ہیں،اس لیے اس موقع پر یہ لکھنا ضروری ہے کہ کسی مرد کو نا محرم عورت سے مصافحہ کرنا درست نہیں ہے،کیونکہ ابن ماجہ (صفحہ:۲۱۲،باب بیعۃ النساء) میں امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(( إني لا أصافح [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۴۴۲) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۲۱۷) مشکاۃ المصابیح (۲/ ۴۸)