کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 593
جواب:تجسس احوالِ مسلمین ناجائز و حرام ہے۔قرآن مجید اور حدیث شریف میں اس کی حرمت و ممانعت وارد ہے۔ قال اللّٰه تعالیٰ:{ یٰٓاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوا} [الحجرات:۱۲] [ایمان دارو! ظن کرنے سے بچو،کیوں کہ بعض ظن گناہ ہوتے ہیں ] مشکات شریف میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:إیاکم والظن،فإن الظن أکذب الحدیث،ولا تحسسوا ولا تجسسوا‘‘[1] الحدیث [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ظن سے بچو کہ ظن سب سے جھوٹی بات ہے اور کسی کے گناہوں کی جستجو نہ کیا کرو] امر ناشدہ کا الزام قائم کر کے دعویٰ کرنا اور جھوٹی شہادت دینے پر آمادہ کرنا اور ترغیب دینا گناہ کبیرہ ہے اور اس کا مرتکب گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔مشکاۃ شریف میں ہے: ’’عن أبي ذر أنہ سمع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:من ادعی ما لیس لہ فلیس منا ولیتبوأ مقعدہ من النار‘‘[2] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو آدمی ناحق کسی چیز کا دعویٰ کرے،وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے] نیز مشکات شریف میں ہے: ’’عن عبداللّٰه بن عمرو قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:الکبائر:الإشراک باللّٰه،وعقوق الوالدین،وقتل النفس،والیمین الغموس۔وفي روایۃ أنس:وشھادۃ الزور بدل الیمین الغموس‘‘[3] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بڑے گناہ یہ ہیں ؛ اﷲ کے ساتھ شرک کرنا،ماں باپ کی نافرمانی کرنا،کسی کو ناحق قتل کرنا،جھوٹی قسم اٹھانا اور جھوٹی گواہی دینا] بلوغ المرام میں ہے: ’’وعن أبي بکرۃ رضی اللّٰه عنہ عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ عد شھادۃ الزور من أکبر الکبائر‘‘[4] [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی کو اکبر الکبائر سے شمار کیا ہے] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۸۴۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۵۶۳) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۱) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۸۷) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۸) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۶۵۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۷) بلوغ المرام (۱۴۰۴)