کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 592
شاء اللّٰه،ثم أذنب ذنبا،قال:رب! أذنبت ذنبا فاغفرہ،فقال ربہ:أعلم أن لہ ربا یغفر الذنب ویأخذ بہ؟ غفرت لعبدي،ثم مکث ما شاء اللّٰه،ثم أذنب ذنباً،قال:رب! أذنبت ذنبا آخر فاغفرہ لي،فقال:أعلم عبدي أن لہ ربا یغفر الذنب و یأخذ بہ،غفرت لعبدي فلیفعل ما شاء‘‘[1] (متفق علیہ) یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے ایک گناہ کیا،پھر کہا:اے میرے رب! میں نے ایک گناہ کیا ہے سو تو اس کو بخش دے،پس اﷲ تعالیٰ نے کہا کہ کیا میرے بندے نے جانا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کو پکڑتا ہے؟ میں نے اس کے گناہ کو بخش دیا۔پھر جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا،پھر اس نے ایک گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے رب! میں نے ایک گناہ کیا ہے سو اس کو بخش دے۔پس اﷲ تعالیٰ نے کہا کہ کیا میرے بندے نے جانا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کو پکڑتا ہے؟ میں نے اس کے گناہ کو بخش دیا۔پھر جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا،پھر اس نے ایک گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے رب! میں نے ایک گناہ کیا ہے سو اس کو تو بخش دے،پس اﷲ تعالیٰ نے کہا:کیا میرے بندے نے جانا کہ اس کا رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے او اس کی وجہ سے اس کو پکڑتا ہے؟ میں نے اس کے گناہ کو بخش دیا،پس جو چاہے وہ کرے۔اس حدیث کو بخاری و مسلم نے رواہت کیا ہے۔ولنعم ما قیل: ایں درگہ ما درگہ نومیدی نیست صد بار گر توبہ شکستی باز آ [ہماری اس درگاہ میں ناامیدی نہیں،اگر سو مرتبہ بھی توبہ توڑے تو واپس ادھر آ جا] پس صورتِ مسئولہ میں پیش امام صاحب اپنے گناہ کے کام سے توبہ نصوح کرے گا تو اس کی توبہ قبول ہو گی اور وہ گناہ کا کام جس کا وہ مرتکب ہوا ہے،اگر کسی کفارہ شرعیہ کا موجب ہے تو وہ کفارہ اس پر لازم ہوگا ورنہ نہیں۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] تجسس کرنا حرام ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عالم ہو کر کسی مسلمان کے گناہ کا تجسس شراب خانہ میں جا کر کرنا اور امر ناشدہ کا الزام قائم کر کے دعویٰ کرنا اور اہلِ اسلام کو بنا بر دینے خلاف شہادت ترغیب دے کر آمادہ کرنا کس جرم شرعی کا مرتکب ہے اور منکر خلاف شہادت سے کس ثواب کا مستحق ہے؟ ﷲ جواب از روئے احادیثِ معتبرہ بحوالہ کتب مستندہ و آیات قرآنی براہ مہربانی عطا فرمائیں۔ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۷۰۶۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۷۵۸) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۶۹)