کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 591
یعنی اگر کافر لوگ اپنے کفر سے توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکات دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار اور مشرکین اپنے کفر و شرک سے توبہ کریں تو وہ توبہ کرنے کے بعد ہمارے دینی بھائی ہوجاتے ہیں اور ان کے ساتھ کل معاملہ و برتاؤ مسلمانوں کا کرنا ضروری ہوجاتا ہے تو اگر مسلمان بدکار اپنے کارِبد سے توبہ کریں اور نماز و روزہ وغیرہ احکامِ شرعیہ کی پابندی رکھیں تو وہ بدرجہ اولیٰ ہمارے دینی بھائی ہوں گے اور ان کے ساتھ دیگر مسلمانوں کی طرح کھانا پینا اور ان سے ملنا جلنا اور ان سے سلام کلام کرنا وغیرہ بدرجہ اولیٰ ضروری ہوگا۔ بنا بریں صورتِ مسئولہ میں عورت مذکورہ اور اس کی تینوں اولاد مسلمان ہیں اور تمام مسلمانوں کے وہ دینی بھائی بہن ہیں،ان سے مل کر کھانا پینا جائز ہے اور ان سے دوسرے مسلمانوں کی طرح ملنے جلنے کی شریعت اجازت دیتی ہے،بلکہ ضروری بتاتی ہے۔جو لوگ ان سے نفرت رکھیں اور ان سے سلام و کلام کرنے کو اور ان سے ملنے جلنے کو نادرست سمجھیں،وہ صریح غلطی پر ہیں اور راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔اﷲ تعالیٰ ان کو راہ پر لائے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا بار بار توبہ کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک آدمی مسجد کا پیش امام ہے،وہ ایک ایسا کام کرتا ہے کہ کفر کو پہنچ جاتا ہے اور پھر اس سے توبہ کرتا ہے۔دوسری دفعہ پھر وہی کام کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے۔آخر کو کئی مرتبہ ایسا کرتا ہے،اس کی توبہ قبول ہوئی یا نہیں ؟ اب اس پر کفارہ یا تعزیر آتی ہے یا نہیں ؟ جواب:صورتِ مسئولہ میں معلوم ہوا کہ اگر وہ امام خالص دل سے توبہ کرتا ہے اور اتفاق سے پھر مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر نادم و شرمندہ ہو کر توبہ کرتا ہے اور پھر اخیر میں مبتلا ہو کر خلوصِ دل سے توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔حدیث شریف میں آیا ہے:(( التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ )) [2] یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ حررہ:السید أبو الحسن،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق جب کوئی شخص خالص دل سے توبہ نصوح کرے گا تو اس کی توبہ قبول ہو گی،گو پہلے کئی مرتبہ توبہ کر کے توڑ چکا ہو: ’’عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:إن عبدا أذنب ذنباً،فقال:رب! أذنبت فاغفرہ،فقال ربہ:أعلم عبدي أن لہ ربا یغفر الذنب ویأخذ بہ؟ غفرت لعبدي،ثم مکث ما [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۶۸) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۴۲۵۰)