کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 590
توبہ کرنے والے شخص سے نفرت کرنا یا ان سے کلام ترک کرنا جائز نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک عورت چند پشت سے بازاری رنڈی تھی،اس سے اسی حالت میں دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی،اس کے بعد اس رنڈی کو خداوندکریم نے ہدایت دی تو وہ اس کارِبد سے تائب ہوئی اور اس کی اولاد بھی تائب ہوئی،اس کی لڑکی نے شریف خاندان کے ایک آدمی سے نکاح کر لیا،اس کے دونوں لڑکے تعلیم بھی میں مشغول ہوگئے اور برے کاموں سے پورے پورے تائب ہوگئے۔اب وہ تینوں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز و روزہ وغیرہ احکامِ دین کی پابندی رکھتے ہیں،جیسے کہ اور مسلمان رکھتے ہیں۔کیا وہ مسلمان ہیں اور ان سے مل کر کھانا جائز ہے یا نہیں اور ان سے دوسرے مسلمانوں کی طرح ملنے جلنے کے لیے شریعت اجازت دیتی ہے یا نہیں ؟ جو لوگ ان کو مسلمان خیال کرتے ہیں،وہ راستے پر ہیں یا جو ان سے نفرت کرتے ہیں،حتی کہ ان سے کلام کرنا بھی درست نہیں سمجھتے،وہ راستے پر ہیں ؟ جواب:بے شک وہ مسلمان ہیں اور ان سے مل کر کھانا پینا بلاشبہہ جائز ہے،ان سے دوسرے مسلمانوں کی طرح ملنے جلنے کے لیے شریعت اجازت دیتی ہے۔جو لوگ ان کو مسلمان خیال کرتے ہیں وہ راہِ حق پر ہیں اور جو لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے کلام کرنے کو بھی نادرست سمجھتے ہیں وہ باطل اور ضلالت کے راستے پر ہیں اور شریعت سے جاہل ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:’’عن أنس قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( کل بني آدم خطأ،وخیر الخطائین التوابون )) [1] رواہ الترمذي و ابن ماجہ والدارمي‘‘ یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بنی آدم خطا کرنے والا ہے اور خطا کرنے والوں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔ پس جب ان لوگوں نے اپنے کارِ بد سے توبہ کی تو سب خطا کاروں سے بہتر ہوئے،نیز ایک روایت میں آیا ہے:(( التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ )) [2] یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کے مثل ہے جس نے گناہ ہی نہیں کیا ہے۔ پس جب توبہ کرنے کی وجہ سے ان پر گناہ ہی نہ رہا اور بے گناہ ٹھہرے تو اب ان سے مل کر کھانا پینا اور ان سے ملنا جلنا اور سلام و کلام کرنا سب کچھ جائز ہے اور ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ حررہ:علي أحمد،عفي عنہ۔ سید محمد نذیر حسین هو الموافق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:{فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ} [التوبۃ:۱۱] [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۴۹۹) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۴۲۵۱) مسند أحمد (۳/ ۱۹۸) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۴۲۵۰)