کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 59
کتاب الإیمان اﷲ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک عالم کہتا ہے کہ جو شخص خداوند کریم کو بلا کیف عرش پر کہے یا جانے،وہ کافر ہے۔پس اس عالم کا یہ قول غلط ہے یا صحیح؟ جواب:جو عالم یہ کہتا ہے،وہ عالم نہیں ہے،بلکہ وہ جاہل ہے اور اس کا یہ قول سراسر غلط و باطل ہے،کیونکہ قرآنِ مجید کی ایک نہیں،بلکہ بہت سی آیتوں سے اﷲ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا ثابت ہے اور اسی طرح بہت سی احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے،مگر اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت مجہول و نامعلوم ہے۔تمام صحابہ اور تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین رضوان اللہ علیہ اجمعین کا یہی قول و اعتقاد تھا کہ اﷲ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور استوا علی العرش کی کیفیت مجہول و نامعلوم ہے۔اﷲ تعالیٰ کے عرش پر بلا کیف ہونے کے ثبوت میں آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ اور اقوالِ ائمہ دین کو بسط و تفصیل کے ساتھ دیکھنا ہو تو کتاب العلو للحافظ الذہبی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہاں دو تین آیتیں اور حدیثیں لکھ دی جاتی ہیں۔قال اللّٰه تعالیٰ: {اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ}[الأعراف:۵۴] [بے شک تمھارا رب اﷲ ہے،جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دنوں میں پیدا کیا،پھر عرش پر قرار پکڑا] {اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ} [الرعد:۲] [اﷲ وہ ہے،جس نے بغیر ظاہری ستونوں کے آسمانوں کی چھت کو بلند کیا،پھر عرش پر قرار پکڑا] 3۔{تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی . اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی} [طٰہٰ:۴،۵] [(یہ قرآن) اُتارا گیا ہے،اس ذات پاک کی طرف سے،جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔وہ رحمن ہے،جس نے عرش پر قرار پکڑا] وقال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم:(( فَھُوَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ )) [1] (متفق علیہ) [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹۸۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۷۵۱)