کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 588
امام نووی نے عمومِ احادیث سے کہ ’’لوگوں کی عزت ان کے مرتبے کے مطابق کرو‘‘ اور ’’بوڑھے آدمی کی عزت کرو‘‘ اور ’’بڑے کی عزت کرو‘‘ سے استدلال کیا ہے کہ ان کے استقبال کے لیے کھڑا ہونا جائز ہے۔ابن الحاج نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ قیام علی سبیل الاکرام عموماتِ مذکورہ میں داخل ہے،لیکن محلِ نزاع کے متعلق نہی ثابت ہے تو یہ اس عموم سے خاص سمجھا جائے گا] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] والدین کا حق: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید کہتا ہے کہ والد کا حق 5/1یعنی پانچ حصے اور والدہ کا حق 3/1یعنی تین حصے ہیں،آیا یہ درست ہے یا کہ نہیں ؟ جواب:زید کا قول صحیح نہیں ہے،بلکہ والدہ کا حق والد کے حق سے سہ گو نہ زیادہ ہے،یعنی اگر والد کا حق ایک حصہ ہے تو والدہ کا حق تین حصے ہے یا اگر والد کا حق تین حصے فرض کرو تو والدہ کا حق نو حصے ہے۔صحیح بخاری میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ قال:جاء رجل إلیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال:یا رسول اللّٰه من أحق بحسن صحابتي؟ قال:أمک۔قال:ثم من؟ قال:أمک۔قال:ثم من؟ قال:أمک۔قال:ثم من؟ قال:ثم أبوک‘‘[2] [ایک آدمی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:میری حسن صحبت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمھاری ماں۔اس نے کہا:پھر کون؟ فرمایا:تیری ماں۔اس نے کہا:پھر کون؟ فرمایا:تمھاری ماں۔اس نے کہا:پھر کون؟ فرمایا:تمھارا باپ] فتح الباری (۲۴/ ۵۲۲) میں ہے: ’’قال ابن بطال:مقتضاہ أن یکون للأم ثلاثۃ أمثال ما للأب من البر۔قال:وکان ذلک لصعوبۃ الحمل،ثم الوضع،ثم الرضاع،فھذہ تنفرد بہ الأم،ثم تشارک الأب في التربیۃ،وقد وقعت الإشارۃ إلیٰ ذلک في قولہ تعالیٰ {وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ} فسوی بینھما في الوصایۃ وخص الأم بالأمور الثلاثۃ‘‘[3] انتھیٰ [ابن بطال نے کہا ہے:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی نیکی باپ سے کی جائے،ماں سے اس سے [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۴۲۵) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۶۲۶) [3] فتح الباري (۱۰/ ۴۰۲)