کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 585
یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم چھڑی پر ٹیک لگائے ہوئے باہر تشریف لائے،سو ہم لوگ آپ کے لیے کھڑے ہوگئے،پس آپ نے فرمایا:مت کھڑے ہو،جیسا کہ عجمی لوگ باہم بعض بعض کے لیے کھڑے ہوا کرتے ہیں۔اس حدیث کو ابودواد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ علامہ طبری نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف و مضطرب السند ہے اور اس کی سند میں غیر معروف شخص ہے۔ 2۔ازانجملہ عبد اﷲ بن بریدہ کی یہ حدیث ہے: ’’من أحب أن یتمثل لہ الرجال قیاما وجبت لہ النار۔أخرجہ الحاکم،ولہ طریق أخریٰ عن معاویۃ۔أخرجہ أبو داود والترمذي وحسنہ‘‘[1] یعنی جو شخص اس بات کو محبوب رکھے کہ لوگ اس کی فرمانبرداری میں کھڑے رہیں تو اس کے لیے آگ واجب ہوگئی۔اس کو حاکم نے روایت کیا ہے۔ ابن قتیبہ نے اس حدیث کے جواب میں کہا ہے کہ اس سے قیام متنازع فیہ کی ممانعت و نہی مراد نہیں ہے،بلکہ اس میں اس شخص کے لیے قیام کی ممانعت ہے جو چاہتا ہے کہ لوگ اس کے سر پر کھڑے رہیں،جیسا کہ عجمی بادشاہوں کے سامنے لوگ کھڑے رہا کرتے ہیں۔[2] 3۔ازاں جملہ انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے: ’’لم یکن شخص أحب إلیھم من رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،وکانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراھیتہ لذلک۔قال الترمذي:حسن صحیح غریب‘‘[3] یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی اور شخص نہیں تھا اور وہ لوگ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تھے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے،اس واسطے کہ وہ جانتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناپسند ہے۔ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اس حدیث صحیح سے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ قیام متنازع فیہ مکروہ و ناجائز ہے۔امام نووی نے [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۲۲۹) سنن الترمذي،رقم الحدیث ۲۷۵۵) [2] فتح الباري (۱۱/ ۵۰) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۷۵۴)