کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 584
جواب:کسی شخص کے آنے یا جانے کے وقت اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کے بارے میں حدیثیں مختلف آئی ہیں،اسی وجہ سے اہلِ علم کی رائیں بھی اس مسئلے میں مختلف ہیں۔بعض اہلِ علم نے اس قیام کو مطلقاً ممنوع بتایا ہے اور بعض نے مطلقاً جائز رکھا ہے۔امام غزالی کی یہ رائے ہے کہ ’’قیام علی سبیل الاِعظام مکروہ ہے اور علی سبیل الاِکرام مکروہ نہیں ہے۔‘‘[1] حافظ ابن حجر فتح الباری (جزو:۲۵/ ۶۵۷) میں لکھتے ہیں:’’ھذا تفصیل حسن‘‘ یعنی امام غزالی کی یہ تفصیل اچھی ہے۔حافظ ابن کثیر نے بعض محققین کی یہ رائے نقل کی ہے کہ ’’عجمیوں کی طرح کھڑے ہونے کی عادت بنا لینا ممنوع ہے،لیکن اگر سفر سے آنے والے کے لیے کھڑا ہوجائے یا حاکم کے لیے اس کے محلِ ولایت میں کھڑا ہوجائے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’اسی حکم کے ساتھ ملحق ہے توسع مجلس کے لیے کھڑا ہوجانا یا کسی عاجز کی اعانت کے لیے کھڑا ہو جانا یا کسی نعمت پانے والے کو مبارک باد دینے کے لیے کھڑا ہوجانا یا کسی اور ضرورت سے کھڑا ہوجانا۔‘‘[2] یعنی اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ہے۔امام ابن قتیبہ کی یہ رائے ہے کہ کسی شخص کے سر پر کھڑا ہونا،جیسا کہ عجمی بادشاہوں کے سامنے لوگ کھڑے رہتے ہیں،ممنوع ہے اور اپنے کسی بھائی کے لیے کھڑا ہوجانا جبکہ وہ سلام کرے،ممنوع نہیں ہے۔[3] حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’الأدب المفرد‘‘ میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔[4] حافظ منذری نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔امام خطابی کی یہ رائے ہے کہ رعایا کا اپنے رئیس فاضل اور امام عادل کے لیے کھڑا ہو جانا اور متکلم کا عالم کے لیے کھڑا ہونا مستحب ہے،لیکن جو لوگ ان صفات کے ساتھ موصوف نہ ہوں،ان کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔[5] قیام متنازع فیہ کو جو لوگ مطلقاً ناجائز کہتے ہیں،وہ متعدد حدیثیں پیش کرتے ہیں: از انجملہ ابو امامہ کی یہ حدیث ہے: ’’خرج علینا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم متوکئا علیٰ عصا فقمنا إلیہ فقال:لا تقوموا کما تقوم الأعاجم بعضھم لبعض‘‘[6] أخرجہ أبو داود و ابن ماجہ۔ [1] فتح الباري (۱۱/ ۵۴) [2] مصدر سابق [3] فتح الباري (۱۱/ ۵۰) [4] مصدر سابق۔ [5] مصدر سابق (۱۱/ ۵۱۔۵۲) [6] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۵۲۳۰) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۳۸۳۶) مسند أحمد (۵/ ۲۵۳) اس کی سند میں ’’ابو مرزوق‘‘ ضعیف ہے۔البتہ صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بایں الفاظ ایک روایت مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور ہم نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی،جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔آپ نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ہمیں کھڑے ہوتے دیکھا تو آپ نے ہمیں اشارہ فرمایا (جس پر) ہم بیٹھ گئے اور ہم نے آپ کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا:تم ابھی وہ کام کرنے لگے تھے جو فارسی اور رومی کرتے ہیں،وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں،حالاں کہ وہ (بادشاہ) بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسا نہ کیا کرو،اپنے ائمہ کی اقتدا کرو،(امام) اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘